میر رضا کیس میں نیا موڑ، ڈاکٹر اسامہ نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کی واٹس اپ چیٹ دکھادی

کراچی(قدرت روزنامہ) میر رضا کیس میں نیا موڑ سامنے آیا ہے جہاں ڈاکٹر اسامہ نے تفتیشی ٹیم کے سامنے مؤقف اپنایا ہے کہ انہوں نے پہلا پوسٹ مارٹم کرنے کے فوراً بعد ہی پولیس سرجن کو اس سے آگاہ کر دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر اسامہ نے تفتیشی ٹیم کو پوسٹ مارٹم کے پہلے دن کی واٹس اپ چیٹ بطور ثبوت دکھا دی ہے، جس میں پوسٹ مارٹم کے حوالے سے مکمل آگاہی دی گئی تھی۔

ڈاکٹر اسامہ کا کہنا ہے کہ 29 تاریخ کو پوسٹ مارٹم والے دن سے ہی انہوں نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کو اس معاملے پر اعتماد میں لے لیا تھا اور واٹس اپ چیٹ میں بھی تمام تفصیلات موجود ہیں۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹر سمیعہ نے ابتدائی طور پر پوسٹ مارٹم رپورٹ کو ’’اوکے‘‘ بھی کیا تھا، تاہم ایک دو روز بعد پولیس سرجن نے مبینہ طور پر میڈیا پر آ کر پوسٹ مارٹم کو غلط قرار دیا اور اپنا رخ تبدیل کر لیا۔

ڈاکٹر اسامہ نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ ڈاکٹر سمیعہ نے پہلے پوسٹ مارٹم کے ایک صفحے پر دستخط بھی بعد میں کیے۔

دوسری جانب، پولیس نے واٹس اپ چیٹ اور شواہد کی صداقت اور تصدیق کے لیے ڈاکٹر اسامہ کا موبائل فون فرانزک کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ڈاکٹر اسامہ کا موبائل فون فرانزک تجزیے کے لیے این سی سی آئی اے کو بھیجا جا رہا ہے تاکہ حقائق کا حتمی تعین کیا جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert