40 لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لانے کے دعویدار وزراء اور ارکانِ اپنے ہی صوبے میں گھروں میں محصور ہوگئے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل خان مروت کا کہنا ہے کہ 40 لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لانے کے دعویدار وزراء اور ارکانِ اسمبلی اپنے ہی صوبے میں گھروں میں محصور ہو رہ گئے ہیں، جس سے بات کرو وہ کہتا ہے کہ لوگوں کو کیا لاؤں؟ معلوم نہیں خود بھی پہنچ سکوں گا یا نہیں۔
ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ ہے آپ کا مارچ، یہ ہے آپ کی حکمتِ عملی اور یہ ہے آپ کی صلاحیت! گزشتہ ایک سال سے کہہ رہا تھا کہ جن لوگوں کو خان صاحب نے تحریک کی ذمہ داری سونپی ہے، وہ اسے چلانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ آج اس کا عملی مظاہرہ سامنے ہے، چالیس لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لانے کے دعوے کرنے والے وزراء اور ارکانِ اسمبلی اپنے ہی صوبے میں گھروں سے نکلنے سے قاصر ہیں۔
جس سے بات کریں وہ کہتا ہے کہ لوگوں کو کیا لاؤں، معلوم نہیں خود پہنچ بھی سکوں گا یا نہیں۔ شیر افضل خان مروت نے کہا کہ تحریکیں، خصوصاً احتجاجی تحریکیں، تب کامیاب ہوتی ہیں جب انہیں چلانے والے سرپھرے ہوں؛ ایسے لوگ جو وزارتوں کے جانے، حکومت کے ختم ہونے اور مالی مفادات کے ضائع ہونے کی پروا نہ کریں۔ جس قیادت کے سامنے اقتدار، عہدے اور مفادات کے اندیشے کھڑے ہوں، وہ عوامی تحریک کی قیادت نہیں کر سکتی۔
جیسا کہ کہا جاتا ہے، جس نے خطرہ مول لینا نہ سیکھا ہو، وہ تبدیلی کی قیادت نہیں کر سکتا۔ تحریک نعروں، کنٹینروں اور سرپرائز کے اعلانات سے نہیں چلتی؛ اس کے لیے بے خوف قیادت، عملی تیاری اور واضح حکمتِ عملی چاہیے۔ میں لانگ مارچ کے بارے میں یہی سوال اٹھاتا رہا، مگر جواب دینے کے بجائے سوشل میڈیا پر ہر اختلاف کرنے والے کو غدار قرار دیا گیا۔
آج سوال یہ ہے کہ جو لوگ دوسروں کو خان صاحب کا سودا بیچنے کا طعنہ دیتے تھے، وہ اپنی حکومت میں ذرا گھروں سے نکل کر تو دکھائیں۔ کیا خوف اور مصلحت آپ کی رگوں میں اس قدر اتر چکی ہے کہ احتجاج کا حوصلہ بھی باقی نہیں رہا؟ یاد رکھیے، بزدل لوگ کبھی احتجاجی تحریک نہیں چلا سکتے۔ شیر افضل خان مروت نے کہا کہ آج کارکن کو سوچنا چاہیے کہ اس بے بسی تک تحریک کو کس نے پہنچایا۔ خان صاحب کے نام پر بڑے بڑے دعوے کرنے والوں کی کارکردگی جانچنے کا وقت آ گیا ہے۔
