آج خیبرپختونخوا کو تمام راستے بند کرکے باقی پاکستان سے کاٹ دیا جائےگا، سہیل آفریدی

پشاور (قدرت روزنامہ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ آج خیبرپختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹ دیا جائے گا ، یہ آنے جانے والے تمام راستے بند کررہے ہیں، کیا یہ مشرقی پاکستان والی سازش دُہرا رہے ہیں؟ یہ جو بھی سازش کریں لیکن ہم پاکستان کو ٹوٹنے نہیں دیں گے، ہم اپنے وطن کی خاطر قربانیاں دیں گے۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین چار دنوں سے سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈا گرد ہمارے کارکنوں، تنظیمی عہدیداروں اور منتخب نمائندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، مواصلات و تعمیرات کے وزیر شکیل خان پر قاتلانہ حملہ اور انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی گئی مگر ناکام رہے، کل ہمارے وزیر آبپاشی ریاض خان کے گھر پر بھی سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈا گرد پہنچے۔
ڈی آئی خان اور دیگر اضلاع میں بھی ہمارے کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ یہی سلوک کیا جا رہا ہے، مردان میں ایم این اے فضل خان کو اغوا کیا گیا، فخر جہان کے گھر پر بھی نامعلوم افراد نے دھاوا بولا، ہمارے منتخب نمائندے اور وزراء نشانے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی کابینہ کے وزراء بھی ان غنڈا گردوں سے محفوظ نہیں تو باقی پاکستان کا کیا حال ہوگا، یہ لوگ عوامی طاقت سے ڈرے ہوئے ہیں، کوئی عقل رکھنے والا شخص اس طرح کے اقدامات نہیں کرتا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب!
گزشتہ تین چار دنوں سے سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈا گرد ہمارے کارکنوں، تنظیمی عہدیداروں اور منتخب نمائندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں،
مواصلات و تعمیرات کے وزیر شکیل خان پر قاتلانہ حملہ اور انہیں اغوا کرنے کی… pic.twitter.com/AygGmyKVdq
— PTI (@PTIofficial) September 23, 2026
خیبر پختونخوا کے صوبائی کابینہ ارکان کے ساتھ ایسا سلوک ناقابل قبول ہے، کچھ دن پہلے رانا ثناء اللہ کی طرف سے خیبر پختونخوا والوں کو دہشت گرد قرار دینے کے بیانات سامنے آئے، مریم صفدر کا یہ کہنا کہ انہیں بھارت سے خطرہ نہیں بلکہ پاکستان کے باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے، انتہائی تشویشناک بیان ہے، آج خیبر پختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹ دیا جائے گا، تمام راستے خیبر پختونخوا کے لیے بند کر دیے جائیں گے، باقی پاکستان کھلا ہوگا لیکن صرف خیبر پختونخوا سے نہ کوئی جا پائے گا نہ آ پائے گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹنے اور تمام راستے بند کرنے کا کیا مطلب لیا جائے؟ کیا کوئی سازش ہو رہی ہے، کیا مشرقی پاکستان جیسا سانحہ ریپیٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جو بھی سازش ہو رہی ہے اور اس کے پیچھے جو بھی لوگ ہیں انہیں واضح پیغام ہے، پاکستان ہمارا ہے، جو بھی پاکستان کو تقسیم کرنے یا خیبر پختونخوا کو پاکستان سے جدا کرنے کی سازش کرے گا اسے ہمارا واضح پیغام ہے، ہم پاکستانی تھے، ہم پاکستانی ہیں اور ان شاء اللہ پاکستانی رہیں گے۔
سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈا گرد ہمارے بیوروکریسی، پولیس، ڈی سیز اور ڈی پی اوز کو ڈرا اور دھمکا رہے ہیں، بیوروکریسی، پولیس، ڈی سیز اور ڈی پی اوز کو میرا پیغام ہے، آپ نے ڈرنا نہیں ہے۔ اگر صوبائی حکومت آپ سے کوئی غلط کام نہیں کروا رہی تو کسی ادارے یا محکمے کے غلط احکامات نہ مانیں، یہ کسی کے باپ کا پاکستان نہیں، یہ ہم سب کا پاکستان ہے، احتجاج کرنا ہر بندے کا آئینی اور قانونی حق ہے، کہیں بھی ہماری شنوائی نہیں ہو رہی، ہمیں نہیں سنا جا رہا، ایسی صورت میں آئین ہمیں پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے اور ہم یہ احتجاج ہر صورت کریں گے، جب تک آئین میں پرامن احتجاج کا حق موجود ہے ہم پرامن احتجاج کرتے رہیں گے، خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان کے عوام کو پیغام ہے، گھبرانا نہیں، ڈرنا نہیں، جو جتنا بڑا ظالم ہوتا ہے وہ اتنا ہی بڑا ڈرپوک ہوتا ہے، اپنے حق اور حقیقی آزادی کے لیے کھڑا ہونا ہے، پرامن جدوجہد جاری رکھنی ہے، ان شاء اللہ بہت جلد ظلم کا دور ختم ہوگا۔
