مقتدرہ نے 3 سال تک ہمیں بتی کے پیچھے لگائے رکھا ہمیں اپنے کارکنان کی نظر میں ذلیل کیا، جنید اکبر

مرنا تو ہمیں ہے، ہمارے پاس اب اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، اگر یہ نہیں ماریں گے تو ہمارے اپنے ووٹرز ہمیں مار دیں گے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس دفعہ عزت سے مریں گے؛ پی ٹی آئی رہنماء کی گفتگو


پشاور(قدرت روزنامہ) پاکستان تحریکِ انصاف کے سینئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی جنید اکبر نے 27 ستمبر کے احتجاجی مارچ کے حوالے سے ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب پارٹی اور قیادت کے پاس پیچھے ہٹنے کا کوئی آپشن باقی نہیں بچا، آگے بڑھتے ہیں تو حکومت گولی مارے گی اور اگر پیچھے ہٹتے ہیں تو کارکنان ہمیں زندہ نہیں چھوڑیں گے، اس لیے ہم نے عزت سے مرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
وسم بادامی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران جنید اکبر کا کہنا تھا کہ ہمیں ہر صورت مرنا ہی ہے، اگر حکومت یا سکیورٹی ادارے نہیں ماریں گے تو ہمارا اپنا ووٹر اور کارکن ہمیں مار دے گا، اس لیے ہم نے طے کیا ہے کہ اس بار ذلت کے بجائے عزت کی موت مریں گے، آج جو بھی سختیاں ہیں وہ اسی وجہ سے ہیں کہ ہم کوئی کمٹمنٹ نہیں کررہے، ہم نے کب آنا ہے، کہاں آنا ہے، کیسے آنا ہے یہ ہمارا فیصلہ ہے ہمیں کوئی بھی ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا۔


انہوں نے انکشاف کیا کہ جب بھی حکومت کے ساتھ ہمارے مذاکرات یا بات چیت ہوئی، حکومت کا یہی روایتی جواب آتا تھا کہ ہم بالکل بے اختیار ہیں، ہمارے بس میں کچھ نہیں ہے اور فیصلے کوئی اور کر رہا ہے، مقتدرہ نے پچھلے تین سالوں سے ہمیں بتی کے پیچھے لگائے رکھا اور ہمیں اپنے ہی کارکنوں کی نظروں میں رسوا اور ذلیل کردیا، سہیل آفریدی نے 52 دن کا فرق رکھ کر لانگ مارچ کا اعلان کیا، حکومت کو ان دنوں میں تو مذاکرات یاد نہیں آئے لیکن اب جب لانگ مارچ کی تیاریاں مکمل ہیں تو یہ مذاکرات کی بات کررہے ہیں۔


جنید اکبر نے تسلیم کیا کہ پی ٹی آئی کا ووٹر عمران خان کی محبت میں اپنی ہی قیادت سے شدید ناراض اور نالاں ہے کیونکہ وہ ہمیں مسلسل آگے بڑھتے اور عملی جدوجہد کرتے دیکھنا چاہتا ہے، اب کسی مذاکرات یا پسپائی کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اور 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کی کال صرف اور صرف عمران خان ہی واپس لے سکتے ہیں، ہم اپنے کارکنوں اور عوام کو مزید مایوس نہیں کریں گے اور تمام تر نائج سے قطع نظر اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کی جائے گی۔

WhatsApp
Get Alert