حاضر سروس ایس پی سے 2 پولیس اہلکاروں کی جنسی زیادتی کی وائرل خبر جھوٹ نکلی
فیک نیوز کے ساتھ مبینہ ایس پی کے طور پر جس شخص کی تصویر لگائی گئی، وہ ایک اشتہاری جعل ساز ہے جو پولیس افسر بن کر لوگوں سے فراڈ اور خواتین کو ہراساں کرتا تھا؛ ترجمان پنجاب پولیس

اٹک(قدرت روزنامہ)پنجاب کے ضلع اٹک میں سٹی پولیس کے حاضر سروس ایس پی کے ساتھ دو کانسٹیبلز کی جانب سے جنسی بدسلوکی اور گرفتاری سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبر اور ایف آئی آر من گھڑت اور جھوٹی نکلی۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر ایک خبر اور مقدمہ نمبر 248/2026 کی ایف آئی آر تیزی سے وائرل ہو رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اٹک سٹی پولیس نے ایک ایس پی کے ساتھ جنسی بدسلوکی پر دو کانسٹیبلز کو گرفتار کیا ہے، تاہم حقائق اور تکنیکی جانچ پڑتال کے بعد یہ تمام دعوے جھوٹ ثابت ہوئے، پنجاب پولیس کے ترجمان نے اس خبر کی تردید جاری کردی۔
جعلی خبر سے ہوشیار!
اٹک سے متعلق وائرل ہونے والی پوسٹ اور ایف آئی آر جعلی ہے۔ جولائی 2025 میں بھکر سے گرفتار ہونے والے شخص کا پنجاب پولیس سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ ایک جعلی ایس پی تھا۔ بغير تصديق ایسی پرانی تصاویر اور گمراہ کن پوسٹس کو آگے نہ پھیلائیں۔ #FakeNewsAlert… pic.twitter.com/QLeqkEH7Ov— Punjab Police Official (@OfficialDPRPP) September 29, 2026
عدالتی ریکارڈ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اٹک کا اصل مقدمہ نمبر 248/2026 چوری کی دفعہ 381 کے تحت درج تھا، جسے جج عبدالخان نے 21 مئی 2026ء کو ہی نمٹا دیا تھا، اس کے برعکس وائرل جعلی ایف آئی آر پر 24 ستمبر 2026ء کی تاریخ درج ہے اور اس میں جنسی جرائم کی دفعات شامل کی گئی ہیں، جو کہ کسی کمپیوٹر سافٹ ویئر کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔
تحقیقات سے یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ وائرل خبر کے ساتھ مبینہ ایس پی کے طور پر جس شخص کی تصویر لگائی گئی ہے، وہ دراصل محمد ارباز خان نامی ایک اشتہاری جعل ساز ہے جو پولیس افسر بن کر لوگوں سے فراڈ اور خواتین کو ہراساں کرتا تھا، جولائی 2025ء میں بھکر پولیس نے اسے گرفتار کیا تھا، اس کے خلاف لاہور، وہاڑی، ساہیوال، سرگودھا اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مختلف تھانوں میں جعل سازی اور پولیس افسر کا ڈھونگ رچانے کے 15 مقدمات درج ہیں اور وہ 10 بار گرفتار ہو چکا ہے
