ایمرجنسی لانگ مارچ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس بیانیئے پر لگے گی جو سرکاری سطح پردہشتگردوں کے حق میں بولنا ہے، عامر الیاس رانا


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سینئرصحافی عامر الیاس رانا کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی لانگ مارچ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس بیانیئے پر لگے گی جوسرکاری سطح پردہشتگردوں کے حق میں بولنا ہے، پی ٹی آئی کو بھی واضح کردیا گیا کہ فیصلہ کرلیں ، جتنا برداشت کرنا تھا وہ کرلیا۔ ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک اس وقت ہوئی تھی جب جنرل باجوہ نے کہا تھا کہ اگر مجھے ایکسٹینشن نہ ملی تو ملک میں مارشل لاء لگا دوں گا، ایک تیاری اس وقت بھی وزیراعظم ہاؤس میں کرلی گئی تھی۔
اس کے نتیجے میں پھر سمری بھی تیاری ہوئی اور ایڈوائس بھی تیاری ہوئی تھی کہ جنرل عاصم منیر کی 27نومبر کو ہی ان کی ریٹائرمنٹ پروٹیکٹ کرلی گئی تھی کہ ان کو آرمی چیف بنا رہے ہیں، بات ختم ہوگئی۔
ایک تیاری انہی لوگوں نے کرلی ہے کہ ایمرجنسی لگانی ہے یا گورنر راج لگانا ہے، آئین کی تمام شقوں کو کیسے نافذ کرنا ہے اور یہ سب کچھ پی ٹی آئی کو بتا دیا گیا ہے، بڑے واضح لفظوں میں بتا دیا گیا ہے کہ کوئی ابہام نہ رہے، یعنی پی ٹی آئی کو بتایا کہ اب فیصلہ آپ کریں، لیکن یہ گورنرراج قطعی طور پر لانگ مارچ کی وجہ سے نہیں لگے گا، ایمرجنسی اگر لگی تو اس بیانیئے پر لگے گی جو ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے بارے میں نہ بولنا بلکہ سرکاری سطح پر ان کے حق میں بات کرنا!ایمرجنسی کا فیصلہ لانگ مارچ یا کسی دھمکی کی بنیاد پر بالکل نہیں ہونا۔
یہ بات پی ٹی آئی کو اس لئے واضح کی گئی ہے کہ فیصلہ اب آپ لوگ کرلیں ،کیونکہ جتنا برداشت کرنا تھا وہ کرلیا ہے، سرحد پار تانے بانے ملنے کے بہت سارے شواہد اکٹھے کرلئے گئے ہیں۔ اسی طرح کل وزیراعظم نے کوئی میٹنگ نہیں کی، وزیراعظم کو ایئرپورٹ پر استقبال کیا گیا اور پھر اپنی اپنی گاڑیوں میں چلے گئے، ایک میٹنگ ہوئی جو چار گھنٹے سے زیادہ کی تھی اس میں وہ لوگ نہیں تھے جن کے چینلز نے نام چلائے۔

WhatsApp
Get Alert