بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے چیف منسٹر ایمپلائمنٹ پروگرام کے تحت ٹیکنیکل و ڈیجیٹل اسکلز ٹریننگ پروگرام کا آغاز ہوگیا

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)بلوچستان کے نوجوانوں کو جدید فنی اور ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے چیف منسٹر ایمپلائمنٹ پروگرام کے تحت ٹیکنیکل و ڈیجیٹل اسکلز ٹریننگ پروگرام کا آغاز ہوگیا ہے، پہلے مرحلے میں صوبے کے تمام اضلاع سے 500 نوجوانوں کو تین ماہ کی تربیت فراہم کی جائے گی ۔

حکام کے مطابق چیف منسٹر ایمپلائمنٹ پروگرام کا مجموعی ہدف ایک ہزار نوجوانوں کو جدید فنی اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت فراہم کرنا ہے، پہلے مرحلے کے بیچ میں 400 مرد اور 100 خواتین امیدوار شامل ہیں۔ تربیتی پروگرام کے تحت نوجوانوں کو سیلز اینڈ مارکیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈیویلپمنٹ اور سائبر سیکیورٹی سمیت جدید شعبوں میں تربیت فراہم کی جائے گی، جس کا مقصد انہیں روزگار، کاروبار اور فری لانسنگ کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہے۔

تربیت مکمل کرنے والے نوجوانوں کے لیے سافٹ ویئر ہاؤسز، آئی ٹی اور آن لائن مارکیٹنگ کمپنیوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں آئی ٹی سیکیورٹی، ڈیٹا مینجمنٹ، میڈیا اور پبلک ریلیشنز کے شعبوں میں بھی ملازمت کے امکانات موجود ہوں گے۔ پروگرام کے ذریعے تربیت یافتہ نوجوان ذاتی آن لائن کاروبار، ڈیجیٹل ایجنسیز اور فری لانسنگ کے ذریعے بھی معاشی مواقع حاصل کرسکیں گے اور جدید ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن سکیں گے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے چیف منسٹر ایمپلائمنٹ پروگرام کے تحت ٹیکنیکل و ڈیجیٹل اسکلز ٹریننگ پروگرام کے آغاز پر اطمینان اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کو جدید فنی اور ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت نوجوانوں کے لیے روزگار اور معاشی خودمختاری کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔
حکومت بلوچستان نوجوانوں کو ہنرمند بنانے اور انہیں باعزت روزگار سے جوڑنے کے لیے عملی اقدامات کا تسلسل جاری رکھے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان باصلاحیت ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم، تربیت اور مواقع فراہم کیے جائیں، حکومت نوجوانوں کی صلاحیتوں کو معاشی ترقی میں بروئے کار لانے کے لیے ہنرمندی کے پروگراموں کو مزید وسعت دے گی۔
