وزیرِاعلی سہیل آفریدی پر نااہلی کی تلوار لٹکنے لگی، غریدہ فاروقی کا سنگین کارروائیوں کا عندیہ

مارچ میں جگہ جگہ غیر قانونی اسلحے کی نمائش اور مسلح افراد کو بھی دیکھا گیا، انتشاری ورکرز نے املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس پر پتھراؤ کرکے دنگا فساد مچانے کی پھرپور کوشش کی گئی؛ اینکرپرسن کی ایکس پوسٹ


اسلام آباد/لاہور(قدرت روزنامہ) پاکستان تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کے بیانات پر قانونی شکنجہ کسنے کی تیاریاں شروع کرنے کا دعویٰ کردیا گیا۔ اینکر ہرسن غریدہ فاروقی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری کردہ پوسٹ میں کہا کہ آئین و قانون کی مبینہ پامالیوں اور مسلح جتھوں کی موجودگی کے پیشِ نظر وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کی نااہلی کی تلوار لٹکنے لگی ہے اور ان کے خلاف کڑے قانونی اقدامات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عدالت کے واضح احکامات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے لانگ مارچ میں سرکاری ہیلی کاپٹر اور دیگر سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا ہے، جو صریحاً توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے، اور اس پر انہیں آرٹیکل 204 کے تحت مقدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
https://x.com/GFarooqi/status/2107032028420186490?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2107032028420186490%7Ctwgr%5E3d99b93d85af5df8c44556056681266c2e82cc44%7Ctwcon%5Es1_c10&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.urdupoint.com%2Fdaily%2Flivenews%2F2026-10-05%2Fnews-4964882.html
اس کے علاوہ لکی مروت میں مارچ کے شرکاء سے خطاب کے دوران قومی سلامتی کے حساس موضوع پر غیر ذمہ دارانہ گفتگو کرنے، ریاستی اداروں، دہشت گردی کے خلاف قومی سلامتی کی پالیسی اور سکیورٹی فورسز کے شہداء کی مبینہ تذلیل پر ان کے خلاف آرٹیکل 130(5) اور آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے مارچ کے دوران جگہ جگہ غیر قانونی اسلحے کی نمائش اور مسلح افراد کی موجودگی دیکھی گئی ہے، جو پاکستان آرمز آرڈیننس 1965 کی خلاف ورزی ہے، جس پر پی ٹی آئی قیادت اور بالخصوص سہیل آفریدی کے خلاف آرمز آرڈیننس کی دفعات 8، 9، 11-B اور 13 کے تحت قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔
مزید برآں لانگ مارچ میں شریک افراد کی جانب سے عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس پر پتھراؤ کرنے پر وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے احکامات کی روشنی میں پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 147، 148 اور 149 کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔
آخر میں عوام اور خصوصاً نوجوان طبقے کو خبردار کیا گیا ہے کہ صوبے کے وزیراعلیٰ اپنی آئینی ذمہ داریاں بھلا کر قانون شکن رویہ اختیار کر چکے ہیں، لہذا نوجوان کسی ایسے جتھے کا حصہ بن کر اپنا مستقبل داؤ پر لگانے سے گریز کریں۔

WhatsApp
Get Alert