اسماء جتک کے اغوا کار اور والد کے اصل قاتل محفوظ پناہ گاہوں میں موجود، نواب اور سردار مظلوم نہیں ظالم ہیں: مولانا ہدایت الرحمن

وزیراعلیٰ کو بتاتا ہوں چھاپہ کہاں مارنا ہے، بااثر قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کو نہیں چھوڑیں گے: مولانا ہدایت الرحمن و علی مدد جتک کا ایوان میں سخت احتجاج


کوئٹہ(قدرت روزنامہ) بلوچستان صوبائی اسمبلی کے جاری اجلاس میں اسماء جتک کے مبینہ اغوا اور ان کے والد کے قتل کے لرزہ خیز واقعے پر ایوان گونج اٹھا، جہاں اراکینِ اسمبلی نے اصل قاتلوں کی عدم گرفتاری، بااثر شخصیات کی پشت پناہی اور پولیس کی مبینہ چشم پوشی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسماء جتک کیس میں اصل قاتل کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا جبکہ مقتول والد کے قاتل بدستور محفوظ پناہ گاہوں میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہمیں ہر صورت اصل قاتل چاہئیں، اور جو سردار اور نواب ظلم و بربریت کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں ان سے کسی صورت رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر وزیراعلیٰ بلوچستان کو قاتلوں کا پتہ نہیں تو میں خود انہیں بتاتا ہوں کہ اصل مجرموں کو گرفتار کرنے کے لیے کس کی چوکھٹ پر چھاپہ مارنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جس نے بھی اسماء جتک کو اغوا کیا اسے بلا تاخیر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔ مولانا ہدایت الرحمن نے خبردار کیا کہ چاہے اغوا کار اور قاتل کوئی نواب ہوں یا سردار، ہم کسی صورت خاموش نہیں بیٹھیں گے کیونکہ بلوچستان میں اسماء جتک اور اس کے خاندان سے بڑھ کر کوئی بھی سردار یا نواب مظلوم نہیں ہو سکتا۔
اجلاس کے دوران صوبائی وزیر میر علی مدد جتک نے بھی معاملے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اسماء جتک کیس میں اصل ملزمان اور قاتل تاحال قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ قاتلوں، ظالموں اور ان کی پشت پناہی کرنے والے بااثر عناصر کے خلاف ہر سطح پر کھل کر آواز اٹھاتے رہیں گے اور کسی دباؤ کا شکار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہی ظالم سرداروں اور نوابوں کے روایتی جبر اور اجارہ داری کی وجہ سے صوبے کے بے گناہ نوجوانوں کے ساتھ سنگین ناانصافیاں کی جا رہی ہیں، جس کے خاتمے کے لیے حکومتی اور ریاستی سطح پر کڑا اور بے لاگ احتساب ناگزیر ہو چکا ہے۔

WhatsApp
Get Alert