محکمہ جنگلات میں بھرتیوں کا معاملہ: فیصلہ اسمبلی میں ہونے کے بجائے چیزیں انڈر دی ٹیبل کی گئیں، اپوزیشن لیڈر پھٹ پڑے

وزیراعلیٰ کے اعلان کے باوجود تحقیقاتی کمیٹی کیوں نہیں بنی؟ اسپیکر کی وضاحت، انڈر دی ٹیبل کچھ نہیں ہوا کمیٹی دو دن میں تشکیل پائے گی


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ جنگلات میں بھرتیوں کے دوران مبینہ بدعنوانی اور بے قاعدگیوں کے الزامات کا معاملہ گونج اٹھا، جس پر قائدِ حزبِ اختلاف میر یونس عزیز زہری نے پوائنٹ آف آرڈر کے ذریعے حکومت کے طریقہ کار اور شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔
ایوان میں پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ محکمہ جنگلات میں ہونے والی بھرتیوں میں بدعنوانی کے الزامات پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے باقاعدہ تحقیقات کرانے کا اعلان کیا تھا، مگر اب معلوم ہوا ہے کہ وزیراعلیٰ نے ان آسامیوں کو ہی منسوخ کر دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے سخت استفسار کیا کہ الزامات کی باقاعدہ چھان بین کے لیے تاحال تحقیقاتی کمیٹی کیوں تشکیل نہیں دی گئی؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس پورے معاملے کا فیصلہ اسمبلی کے فورم پر کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، مگر عملی طور پر تمام چیزیں ایوان کو بائی پاس کر کے انڈر دی ٹیبل کی گئی ہیں۔
اسپیکر اسمبلی عبدالخالق اچکزئی نے اپوزیشن لیڈر کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے رولنگ دی کہ انڈر دی ٹیبل کچھ نہیں ہوا بلکہ سب کچھ ایوان اور سب کے سامنے شفاف طریقے سے کیا جا رہا ہے۔ اسپیکر نے تاخیر کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے کمیٹی فوری طور پر نہ بن سکی، تاہم آئندہ دو روز کے اندر تحقیقاتی کمیٹی باضابطہ طور پر تشکیل دے دی جائے گی۔
اجلاس کے دوران صوبائی وزیر نور محمد دمڑ نے اس معاملے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ان کی شکایت پر فوری نوٹس لیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے شکایت پر نہ صرف اطمینان کا اظہار کیا بلکہ اس پر انتہائی سنجیدہ اور فوری کارروائی بھی عمل میں لائی ہے۔

WhatsApp
Get Alert