شعوری منصوبے کے تحت مصنوعی و جعلی دہشت گردی مسلط، پشتون اپنے ہی وطن میں دربدر: خوشحال خان کاکڑ

پشتونخوا وطن اور وسائل کے خلاف سازشیں جاری، "مصنوعی دہشت گردی" اور "آپریشن" نامنظور: چیئرمین پشتونخوا نیپ


ژوب (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں پشتونخوانیپ کو نمائندگی ملنے میں ژوب کے غیور عوام کا بہت بڑا حصہ ہے ہم ژوب کے غیور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ واضح کرتے ہیں کہ گزشتہ انتخابات میں ژوب کے عوام کی پشتونخوانیپ کی بھرپور تائید وحمایت کرنے پراحسان مند ہے اور اس احسان کی ادائیگی کو قومی فرض سمجھ کر یہاں کے غیور عوام کو درپیش تمام مشکلات کو حل کرنے کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کرینگے جبکہ ژوب کے ضلع کی سطح پر عوامی نیشنل پارٹی کا بھی ہمارے ساتھ انتخابی اتحاد تھا ہم اُنکی قیادت اور کارکنوں کے شکرگزار ہیں وہ مندوخیل شرقی علاقائی یونٹ کے زیر اہتمام کلی تکئی سلیازہ اور گردہ بابڑمیں عوامی اجتماعات سے خطاب کررہے تھے جس سے پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین رضامحمد رضا، صوبائی نائب صدر عبدالقیوم ایڈوکیٹ، ضلعی سینئر ڈپٹی سیکرٹری نعمت اللہ مندوخیل، ڈاکٹرافراسیاب مندوخیل، سردار محمد انور بابڑ، اکبر خان، اعظم خان نے بھی خطاب کیا جبکہ گردہ بابڑ میں سیف الرحمٰن نے پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ اور عزیز اللہ خان نے سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا کو پشتنی دستار پہنائے۔ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتون قوم کو زندگی کے ہر شعبے میں اذیت ناک صورتحال کا سامنا ہے اُن کی بہت بڑی اکثریت مسافرانہ زندگی پر مجبور ہے اور آئی ڈی پیز کی شکل میں درپہ در ہے اُنکے وطن پر مصنوعی جعلی دہشتگردی، لاقانونیت، بدامنی ایک شعوری منصوبہ بندی کے تحت مسلط کی گئی ہے ژوب شیرانی کے عوام اس صورتحال سے خود آگاہ ہے لہذا اس سنگین صورتحال کا مقابلہ کرنے اور اپنے وطن اُن کے وسائل اور اپنے عوام کے سرومال اور عزت کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے بہت بڑے وسیع بنیادوں پر قومی اتحاد واتفاق کی ضرورت ہے غیور عوام ہمارے ساتھ وعدہ کریں کہ جب اس لاقانونیت و بدامنی کے خلاف تحریک شروع ہو جائیگی تو ہر گھر اور ہر فرد نے اس اہم قومی فرض کو اپنا ذاتی فرض سمجھ کر اس تاریخی تحریک میں حصہ لینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سانحہ ہنہ، زیارت، شاہرگ سمیت واقعات کے تناظر میں کوئٹہ میں جو کامیاب دھرنا دس دن جاری رہا اس تحریک کی وجہ سے دہشتگردی کے پھیلاؤ میں معمولی کمی آئی ہے لیکن دہشتگردی اور پشتون دشمن اقدامات ختم نہیں ہوئے حالانکہ تمام پارٹیوں نے ملکر انتہائی اخلاص اور ہمت کے ساتھ اتحاد قائم کرکے تحریک چلائی لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اُس آل پارٹیز اتحاد کو پھر متحد کرتے ہوئے تحریک کا آغاز کریں اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے تمام تنظیموں سمیت تمام عوام اس تحریک میں بھرپور شرکت کریں کیونکہ جعلی دہشتگردی اور لاقانونیت کے نام پر پشتونخوا وطن کے خلاف جو سازش ہورہی ہے وہ کسی ایک پارٹی اور ایک تنظیم کی جانب سے روکنے کی بس کی بات نہیں بلکہ ہر ضلع، ہر تحصیل،ہر یونین کونسل، ہر گھر تک تمام عوام نے اس سیاسی جمہوری مزاحمتی تحریک کا ساتھ دینا ہوگا اور مصنوعی “دہشتگردی نامنظور””آپریشن نامنظو ر” اور اپنے عوام اور وسائل کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے آواز بلند کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پشتون عوام نے ہر قسم کے سیاسی، قبائلی، علاقائی اختلافات سے بالاتر ہوکر اس تلخ حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ ہمارے اور آپ کے بچوں کے مستقبل کو جو خطرات لاحق ہے لہذا اپنے بچوں کے سرکی قیمت سے کوئی چیز اور کوئی جائیداد بالاتر نہیں لہذا ہمیں قومی طور پر متحد و منظم ہوکر اپنے آبا و اجداد کی طرح اپنے وطن اور اپنے بچوں کے مستقبل کو ہر قیمت پر محفوظ بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں پشتونخوا نیپ کی نمائندگی ضلع ژوب، شیرانی اور قلعہ سیف اللہ کے غیور عوام کی اخلاص، محبت، قومی دلیری اور سیاسی بیداری کی مرہون منت ہے پشتونخوانیپ اس نمائندگی کے ذریعے محکوم اقوام اور مظلوم عوام کے حقوق و اختیارات کے حصول اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کریگی جبکہ اس علاقے کے عوام کے مسائل کے حل کیلئے ہر سطح پر کوششیں جاری رکھیں گے، ژوب نیشنل ہائی وے، ٹیلی فون ٹاورز کی تنصیب مختلف تعلیمی اداروں کا قیام سمیت مختلف کاموں کیلئے پہلے بھی آواز بلند کرتے رہے ہیں اور ان ترقیاتی کاموں کی تکمیل کیلئے ملی شہید عثمان خان کاکڑ نے پسماندہ علاقوں کے کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے بھرپور آواز بلند کی تھی اور اُس کی جدوجہد کے نتیجے میں مختلف ترقیاتی کام شروع ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ اور حکمرانی کے اصل حقدار عوام ہے اور ہم صرف ایوانوں میں نمائندگی کرتے ہیں ہمارے غیور عوام جو بھی مطالبات کرتے ہوئے حکم کرینگے ہم انہیں ماننے اور انہیں حکمرانوں تک پہنچانے اور اُنکے حل کیلئے بھرپور کردار ادا کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ وطن دوست، عوام دوست سیاست اور پارٹی کی اہمیت مسلمہ اور برحقیقت ہے لیکن ہمارے غیور عوام نے سیاست اور پارٹیوں اور قبائلی تنازعات سے بالاتر ہوکر ایک ہونا ہوگا جس طرح یہاں کے غیور عوام نے ہر قسم کے اختلافات و تعلقات سے بالاتر ہوکر پشتونخوانیپ کو گزشتہ انتخابات میں بھرپور کامیابی دلائی اس پر ہم تمام غیور عوام کے مشکور ہیں اور اُن کی جانب سے دی گئی نمائندگی کے ذریعے محکوم اقوام اور مظلوم انسانیت کی حقوق واختیارات کے حصول کیلئے جدوجہد کو مزید تیز کرینگے ۔

WhatsApp
Get Alert