جب ہم بولیں گے کہ ہم نے اسلام آباد پہنچ کر دکھاناہے تو تم توکیا تمہارا باپ بھی نہیں روک سکے گا، سہیل آفریدی


کوہاٹ (قدرت روزنامہ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ جب ہم بولیں گے کہ ہم نے اسلام آباد پہنچ کر دکھانا ہے تو تم توکیا تمہارا باپ بھی نہیں روک سکے گا۔ انہوں نے کوہاٹ میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل وہ بندر، جو ایک بزرگ عورت سے اپنا الیکشن ہار چکا ہے، اگر یہ غیرت مند باپ کا بیٹا ہوتا تو ایک بزرگ خاتون کی سیٹ پر نہ بیٹھا ہوتا، مجھے تیری غیرت کا بھی پتا ہے اور جو بھگوڑا تیرا لیڈر ہے اس کی غیرت کا بھی پتا ہے، جب ہم بولیں گے کہ ہم نے اسلام آباد پہنچ کر دکھانا ہے تو تم کیا تمہارا باپ بھی ہمیں روک نہیں سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ ہم لانگ مارچ پر کیوں مجبور ہوئے۔
وزیراعلیٰ بننے کے بعد اب تک ہر دروازہ کھٹکھٹایا اور تمام جمہوری، آئینی و قانونی راستے اختیار کیے، بار بار کہا کہ بتائیں میرے پاس کون سا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام آئینی و قانونی راستے اپنانے کے بعد وزیراعظم کو فون کرکے عمران خان سے ملاقات کرانے کا کہا، جس پر کہا گیا کہ پوچھ کر بتاتا ہوں۔
بعد ازاں صوبائی اسمبلی سے ملاقات کے حق میں قرارداد بھی منظور ہوئی، چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی درخواست کی، مگر ملاقات نہ ہوسکی، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سلام لینا بھی گوارا نہیں کیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تین ججز نے عمران خان کا شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج کرانے کا حکم دیا، مگر اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔
جہاں سے انصاف کی توقع ہو مگر انصاف نہ ملے، وہاں آئین پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے۔ اسی لیے جنوبی ریجن سے پرامن احتجاج کا آغاز کیا ہے اور نہتے و پرامن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستانیوں اپنے سب کو بتانا ہے کہ ہمارے مطالبات کیا ہے، ہم نے اپنے مطالبات کا مسودہ سوشل میڈیا پر جاری کر دیا ہے، اگر ایک بھی نکتہ غیر قانونی یا غیر آئینی ہوا تو لانگ مارچ منسوخ کر دیں گے۔
عمران خان کا علاج اور ملاقات غیر آئینی نہیں، انصاف کے ذریعے رہائی بھی غیر آئینی نہیں۔ ججز کیسز کیوں نہیں سن رہے، کیسز سنیں تو عمران خان ایک گھنٹے میں باہر ہوں گے۔ عمران خان نے کوئی جرم نہیں کیا، وہ جیل میں اس لیے ہیں کہ انہوں نے پاکستان اور دنیا کی طاقتور قوتوں کو ’’ایبسلوٹلی ناٹ‘‘ کہا۔ ان کے مطابق مخالفین عمران خان کی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں اور انہیں باہر نہیں آنے دینا چاہتے۔

WhatsApp
Get Alert