خیبرپختونخوا میں کارکنان اور پولیس میں تصادم نہیں ہوگا لیکن سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں ضرور ہوں گی، شیر افضل خان مروت


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل خان مروت کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ خیبرپختونخوا میں کارکنان اور پولیس میں تصادم نہیں ہوگا لیکن سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں ضرور ہوں گی، صوبے میں حکومت اب ان کے ہاتھوں میں نہیں، ورنہ تھری ایم پی او اور دفعہ 144 نہیں لگتی، حقیقت یہ ہے کہ لانگ مارچ میں ڈیڑھ دو سو لوگ ہیں، جبکہ سہیل آفریدی کے ساتھ 1 لاکھ کا ہجوم ہونا چاہیئے تھا۔
ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کیلئے دعا گو ہوں، کیونکہ یہ عمران خان کی رہائی کی کاز کے لئے لگے ہوئے ہیں، لیکن حقیقت بتانے سے بھی باز نہیں آسکتا، جنوبی پختونخواہ کے 12اضلاع سے گزر کر پشاور پہنچ گئے ہیں ۔
لکی مروت میں گنڈی چوک میں جب یہ یکجا ہوئے تو ایک طرف وہاں سے ٹانک، بنوں، ڈی آئی خان ، کرک یہ جنکشن میں پڑتا ہے ، میرے حلقے کی آبادی 8لاکھ سے زیادہ ہے، ڈی آئی خان کی 20لاکھ کے لگ بھگ ہے، بنوں کی آبادی بھی 13لاکھ ہے، اس طرح اس سارے علاقے کی آبادی ایک کروڑ سے زیادہ ہے، یہاں سے اگر ایک لاکھ لوگوں سے آغاز کرتے تو بڑی بات ہوتی۔

لیکن پی ٹی آئی کی کوئی تیاری نہیں تھی نہ ہی کوئی حکمت عملی تھی، 40 لاکھ لوگوں کو لانے کا دعویٰ کررہے لیکن حکمت عملی روزانہ تبدیل ہورہی ہے، 27 تاریخ کا اعلان پھر 4 اکتوبر کردی، لیکن لکی مروت سے جب کرک پہنچے تو200 لوگ بھی سونے کو نہیں تھے، ان کا پولیس کے ساتھ تصادم نہیں ہوگا لیکن سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوں گی۔
علی امین گنڈاپور کو خود روکنے کے لیے کنٹینر کھڑے کروا دیے۔۔ میرا خیال ہے تصادم نہیں ہو گا۔ اب گرفتاریاں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ میرے سامنے سے ایک چیز گزری ہے جس کو دیکھ کر میں یہ بتا سکتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں تصادم نہیں ہوگا شوکت یوسفزئی سمیت ان کے سیاسی راہنماؤں کی گرفتاریاں ہوں گی۔ صوبے میں حکومت اب ان کے ہاتھوں میں نہیں ہے۔
کیونکہ تھری ایم پی او اور دفعہ 144 ان کی اپنی ہی صوبائی حکومت کے اندر لگ چکی ہے، جبکہ یہ اختیار صوبائی حکومت کا ہے تو پھر کون سی حکومت؟ شیر افضل مروت نے کہا کہ مذاکرات میں اصل مسئلہ تب آیا جب ان کو احساس ہوا کہ اگر پی ٹی آئی لانگ مارچ واپس لیتی ہے تو عمران خان سے کوئی لانگ مارچ ختم نہیں کروا سکتا۔۔ محمود خان اچکزئی، سہیل آفریدی اور مذاکراتی ٹیم کا کوئی بندہ اس معاملے پر عمران خان کا سامنا نہیں کر سکتا۔
۔ کیا عمران خان نے لانگ مارچ اپنی طبی امداد کے لیے کروایا ہے۔ اس موقع پر پروگرام میں پی ٹی آئی کے رہنماء شوکت یوسفزئی نے کہا کہ صوبے میں ایک برابر حکومت کھڑی کر دی گئی ہے، گورنر ہاؤس میں اجلاس ہو رہے ہیں، آئی جی چیف سیکرٹریز وہاں موجود ہیں، ملک دلدل میں پہلے ہی پھنسا ہے، گورنر راج اور ایمرجنسی مزید بند گلی میں لے جائیں گے۔ سارا مسئلہ انا اور ضد کا ہے، اگر آج منگل کے روز عمران خان سے کچھ لوگ مل لیتے تو کیا قیامت آ جاتی۔

WhatsApp
Get Alert