وزیراعلیٰ بلوچستان نے اتنی معافیاں مانگیں کہ اب معافیاں بھی بدنام ہوگئیں، حکومت بے اختیار ہے یا قسطوں میں فیصلے کرتی ہے: مولانا عبد الواسع

ارکانِ پارلیمنٹ کے نام ای سی ایل میں ڈال کر معذرت کرنا سمجھ سے بالاتر، افسران کے خلاف کارروائی کے بغیر محض معافی سے کام نہیں چلے گا


معدنیات ایکٹ پر حکومت نے اپوزیشن کو دھوکہ دیا، مدارس رجسٹریشن اور معدنیات پر سنجیدگی نہ دکھائی تو دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر لائحہ عمل دیں گے
بلوچستان میں موجود ’’پرائیویٹ ملیشیا‘‘ کو فوری واپس بھیجا جائے، حکمران نہیں بلکہ عوام اور سیاست دان ہی ملک کے اصل مالک ہیں
صوبائی حکومت کو اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا، 17 نومبر سے صوبے بھر کا دورہ شروع کرکے عوام کی عدالت میں جائیں گے: امیر جے یو آئی بلوچستان کی پریس کانفرنس
کوئٹہ(قدرت روزنامہ) جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبد الواسع نے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے اتنی معافیاں مانگ لی ہیں کہ اب معافیاں بھی بدنام ہوچکی ہیں۔ حکومت یا تو مکمل طور پر بے اختیار ہے یا پھر فیصلے قسطوں میں کیے جا رہے ہیں۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبد الواسع نے کہا کہ سینیٹر شکور غبیزئی اور رکن بلوچستان اسمبلی حاجی زابد ریکی کے نام پہلے ای سی ایل میں ڈالے جاتے ہیں اور پھر بعد میں حکومت کی جانب سے معذرت کر لی جاتی ہے، حکومت کا یہ غیر سنجیدہ طرزِ عمل کسی کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جن افسران کی غلطی پر کارروائی ہونی چاہیے، اگر ان کے خلاف کوئی ٹھوس اور عملی قدم نہیں اٹھایا جائے گا تو محض رسمی معافیاں مانگنے سے معاملات حل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے صوبائی حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت کے اس رویے کو اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مدارس کی رجسٹریشن کے حساس معاملے پر بھی وزیراعلیٰ نے معذرت کی تھی، لیکن اب تک اس رجسٹریشن کے حوالے سے حکومت نے کسی قسم کی واضح پیش رفت سے آگاہ نہیں کیا۔

معدنیات سے متعلق متنازع قانون سازی پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مولانا عبد الواسع نے کہا کہ حکومت نے معدنیات ایکٹ پر اپوزیشن کو دھوکہ دیا؛ پہلے بل واپس لینے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا مگر اصل مسئلہ تاحال جوں کا توں ہے۔ اپوزیشن اور دیگر سیاسی جماعتوں نے باہمی اتفاقِ رائے سے ایک جامع ڈرافٹ تیار کرکے جمع بھی کرایا تھا، لیکن حکومتی بے حسی کے باعث معاملات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
امیر جے یو آئی بلوچستان نے واضح الٹی میٹم دیا کہ اگر حکومت نے مدارس رجسٹریشن اور معدنیات ایکٹ کے معاملات پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو جمعیت علمائے اسلام دیگر ہم خیال سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر سخت اور متفقہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔
صوبائی امیر نے بلوچستان کے امن و امان اور سیکیورٹی معاملات کے تناظر میں مبینہ طور پر نجی مسلح گروہوں کی موجودگی پر سخت اعتراض اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ صوبے میں موجود ’’پرائیویٹ ملیشیا‘‘ کو فی الفور واپس بھیجا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے حقیقی مالک عوام اور سیاست دان ہیں، کوئی حکمران ملک کا مالک نہیں۔ اپنے آئندہ کے سیاسی پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے مولانا عبد الواسع نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام 17 نومبر سے بلوچستان بھر کا تفصیلی دورہ شروع کرے گی اور پارٹی قیادت براہِ راست عوام سے رابطہ کرے گی۔

WhatsApp
Get Alert