پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی درخواست مسترد

پشاور(قدرت روزنامہ)پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف دائر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی درخواست مسترد کر دی۔
جسٹس ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا۔
الیکشن کمیشن نوٹس کے خلاف درخواست
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹس کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، سماعت کے دوران وزیر اعلیٰ کے وکیل اور الیکشن کمیشن کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے اپنے دلائل دیے۔
الیکشن کمیشن کے نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست قبل از وقت ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ کے خلاف ابھی کوئی حتمی کارروائی نہیں کی گئی بلکہ معاملہ ابتدائی انکوائری کے مرحلے میں ہے۔
الیکشن کمیشن کے دلائل
الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کے خلاف ابھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور انکوائری ابتدائی مرحلے میں ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ متعلقہ زمرے میں نوٹس جاری کرنا اس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اس لیے درخواست خارج کی جائے۔
الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں ڈی ایم او کی جانب سے بھی کارروائی ہوئی جبکہ الیکشن کمیشن نے بھی اپنے دائرہ اختیار کے تحت نوٹس جاری کیا۔
سہیل آفریدی کے وکیل کے دلائل
وزیر اعلیٰ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 25 نومبر 2025 کو وزیراعلی سہیل آفریدی کو نوٹس بھیجا گیا تھا، جس میں وزیر اعلیٰ پر الیکشن عملے کے خلاف بیان دینے اور انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا، تاہم ان کا مؤقف تھا کہ وزیر اعلیٰ کی تقریر این اے 18 کے حلقے کی حدود سے باہر ہوئی تھی۔
وکیل نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نے الیکشن ایکٹ کے سیکشن 234 کے تحت نوٹس جاری کیا، جبکہ الیکشن کمیشن نے بھی سیکشن 15 کے تحت نوٹس کیا۔
ان کے مطابق الیکشن کمیشن نے ایک نجی شکایت کو بھی معاملے کے ساتھ شامل کرتے ہوئے ازخود کارروائی شروع کی۔
ڈی ایم او اور الیکشن کمیشن کی کارروائی پر اعتراض
وزیر اعلیٰ کے وکیل نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ ڈی ایم او کے اختیارات بھی الیکشن کمیشن استعمال کر رہا ہے۔
وکیل کے مطابق ڈی ایم او جرمانہ عائد کرتا ہے اور اس کے بعد معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجا جاتا ہے، جہاں تین دن میں اس پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ڈی ایم او نے بھی نوٹس جاری کیا، الیکشن کمیشن نے بھی نوٹس کیا اور ڈی ایم او نے اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن کو بھیجی۔
جسٹس ارشد علی کے اہم ریمارکس
سماعت کے دوران جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کو درخواست گزار کو سننے دیا جائے اور وہ اپنا جواب دے سکتے ہیں۔
جسٹس ارشد علی نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ انکوائری ہے، ابھی کوئی حتمی کارروائی نہیں ہوئی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایسا کوئی قانونی قدغن موجود نہیں کہ الیکشن کمیشن انکوائری نہیں کرسکتا۔
کارروائی سے نااہلی ہوسکتی ہے، وکیل
وزیر اعلیٰ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن نے کارروائی شروع کردی ہے اور اس کے نتیجے میں درخواست گزار نااہل ہوسکتا ہے۔
وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ اسی حلقے میں کیپٹن صفدر انتخابی مہم چلا رہے تھے، جس پر شکایت کی گئی، تاہم ان کے خلاف نہ انکوائری کی گئی اور نہ ہی سماعت ہوئی۔
اس پر الیکشن کمیشن کے نمائندے نے بتایا کہ ڈی ایم او کی جانب سے عائد کی جانے والی پینلٹی بھی کمیشن کو بھیجی جاتی ہے اور کمیشن تین دن میں اس پر فیصلہ کرتا ہے۔
عدالت نے درخواست خارج کردی
دلائل مکمل ہونے کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی۔
عدالت کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری انکوائری کا معاملہ اپنی قانونی کارروائی کے اگلے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے سماعت کے دوران درخواست کو قبل از وقت قرار دیا تھا اور مؤقف اپنایا تھا کہ ابھی وزیر اعلیٰ کے خلاف کوئی حتمی کارروائی نہیں کی گئی۔
یاد رہے کہ ہری پور ضمنی الیکشن کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کا اہم اقدام، الیکشن کمیشن نوٹس کیخلاف سہیل آفریدی کی دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، اس موقع پر سماعت کے دوران سہیل آفریدی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن نے انکوائری آفیسر کے اختیارات کو بائی پاس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کو نوٹس جاری کیا، جبکہ اب تک یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ انکوائری آفیسر کون ہوگا اور انکوائری کس طریقہ کار کے تحت کی جائے گی۔
انکوائری آفیسر کے اختیارات واضح نہیں
سہیل آفریدی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹس دیا گیا، تاہم انکوائری آفیسر کے اختیار اور کردار کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں ہے۔
وکیل کے مطابق کیپٹن صفدر کی جانب سے کیے گئے اعلانات کے خلاف مہم شروع کی گئی تھی، جبکہ الیکشن کمیشن نے کیپٹن صفدر کے خلاف کارروائی پہلے ہی سماعت میں ختم کردی تھی۔
جسٹس ارشد علی کا سوال
اس پر جسٹس ارشد علی نے سوال کیا کہ اگر الیکشن کمیشن کی کارروائی پر اعتراض تھا تو اس کے خلاف شکایت کیوں نہیں کی گئی؟
الیکشن کمیشن کے نااہلی اختیار پر دلائل
سہیل آفریدی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک ہائیکورٹ کے فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس کسی شخص کو نااہل قرار دینے کا اختیار نہیں۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت الیکشن کمیشن کو ایسے اختیارات حاصل ہیں، جن کے ذریعے کرپٹ عناصر کو روکا جاسکتا ہے۔
شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری قرار
الیکشن کمیشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ کمیشن کی ذمہ داری شفاف انتخابات کا انعقاد اور انتخابی عمل میں غیر قانونی اقدامات کو روکنا ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے مزید کہا کہ اس معاملے میں کمیشن کی جانب سے اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
فیصلے کے خلاف اپیل کا سوال
سماعت کے دوران جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل کی جاسکتی ہے؟ الیکشن کمیشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ تین اقسام کے فیصلوں کے خلاف اپیل کی جاسکتی ہے.
