اس رجیم نے مڈل کلاس طبقے کو ذبح کرکے رکھ دیا ہے، اسد عمر کی شدید تنقید

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستان تحریک انصاف کے سابق سیکریٹری جنرل اور سابق وفاقی وزیرِ خزانہ اسد عمر نے ملکی معاشی صورتحال اور ٹیکس پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے موجودہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔
تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں اسد عمر نے اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران تنخواہ دار طبقے کی طرف سے ادا کیے جانے والے انکم ٹیکس میں مزید 10 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جب کہ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد سے لے کر اب اس طبقے پر ٹیکس کا بوجھ تین گنا سے بھی زیادہ بڑھ چکا ہے۔
اس کے برعکس رئیل اسٹیٹ کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی کم ٹیکس دینے والے رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے پہلی سہ ماہی میں ٹیکس وصولی میں 38 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، اسد عمر نے سخت الفاظ میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ظالمانہ نظام اور پالیسیوں سے موجودہ رجیم نے متوسط طبقے یعنی مڈل کلاس کو ذبح کرکے رکھ دیا ہے۔
First quarter of this fiscal year income tax paid by salaried class went up 10% after more than tripling since shehbaz became PM. Tax collection in first quarter from the already under taxed real estate sector REDUCED 38%. This regime has slaughtered the middle class
— Asad Umar (@Asad_Umar) October 7, 2026
علاوہ ازیں سابق وزیر اسد عمرنے کہا کہ ہر مسئلہ کیل نہیں اور ہر مسئلے کا حل ہتھوڑا نہیں، بہت سے بے گناہ پختونوں کا خون بہہ چکا اور بہت سے فوجی جوان اپنی جان نچھاور کرچکے، وزیرداخلہ 72 گھنٹوں کی دھمکی کی بجائے مشران کے ساتھ بیٹھیں، خدارا! اس ملک کے لوگوں کی زندگیوں پر سیاست نہ کریں، دہشتگردی پر کسی صورت سمجھوتہ ممکن نہیں، اس کے لئے نومبر 2025 میں پختون خواہ کے مشران کا جرگہ ہوا اور مکمل اتفاق رائے سے اعلامیہ جاری ہوا۔
انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ اس جرگہ میں صوبائی حکومت کے علاوہ مسلم لیگ، پیپلزپارٹی، جے یو آئی، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی اور صوبے کی تمام پارٹیاں موجود تھیں اور اعلامیہ پر ان کے نمائندوں نے دستخط کیے، یہ اعلامیہ دہشتگردی ختم کرنے کی کاوش کی بنیاد ہونا چاہئے، وزیر داخلہ 72 گھنٹوں کی دھمکی کے بجائے ان تمام مشران کے ساتھ بیٹھیں، سب سے پہلے جائزہ لیں کہ اعلامیہ کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنی ذمہ داری پوری کی؟ جس کی بھی کوتاہی ہو اس کی سرزنش کی جائے۔
