اب کوئی سمجھوتہ نہیں! دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی جنگ میں فیصلہ کُن وقت آن پہنچا ہے، غریدہ فاروقی


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) صحافی غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ اب کوئی سمجھوتہ نہیں! دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی جنگ میں فیصلہ کُن وقت آن پہنچا ہے، پی ٹی آئی کسی نہ کسی بہانے، ٹی ٹی پی اور اس کے حواریوں کیخلاف جنگ لڑنا ہی نہیں چاہتی، اب مزید سمجھوتے اور مصالحتیں نہیں ہوں گی بلکہ اب صرف دہشتگردی اور دہشتگردوں کے خلاف جنگ ہوگی۔
ایکس پر اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ میں فیصلہ کُن وقت آن پہنچا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے پی ٹی آئی کا ہمیشہ سے بیانیہ یہ رہا ہے کہ دہشت گردی کی یہ جنگ مسلط کردہ ہے اور ڈالر کے لیے لڑی جا رہی ہے۔ یہی بنیادی مسئلہ ہے، اسی لیے ان کے تمام اقدامات ریاست پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عین برعکس ہیں جوکہ ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے ریجیم کی پالیسیوں کی کھلی حمازی کرتے ہیں۔
یہ بات اہم ہے کے بے شمار قربانیوں کے باوجود یہ جنگ اپنے منطقی انجام تک کیوں نہیں پہنچ رہی؟ اسکی وجہ یہ ہے کے پی ٹی آئی کسی نہ کسی بہانے، ٹی ٹی پی اور اس کے حواریوں کے خلاف جنگ لڑنا ہی نہیں چاہتی۔
یہ بات بالکل سادہ اور واضح ہے۔ عام طور پر پی ٹی آئی یہ پروپیگنڈا کرتی ہے کہ جب سکیورٹی فورسز سرحد کی حفاظت کر رہی ہیں تو دہشت گردی کیسے پھیل رہی ہے؟ اس بات کو بہت اچھی طرح اور درست تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
یہ سمجھنا ہوگا کہ آپ سرحد کو جتنا بھی سخت کر لیں، جب تک تحریک انصاف کی قیادت افغانستان کی طرف دیکھتی رہے گی اور مسائل کے حل کے لیے پاکستان کی طرف نہیں دیکھے گی، اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ مسئلہ یہ ہے کے پی ٹی آئی حکومت اسلام آباد کی بجائے کابل کی طرف دیکھتی ہے۔ انہیں بیانیے اور سکیورٹی پالیسیوں کے لیے کابل کی بجائے اسلام آباد کا انتخاب کرنا چاہیے تھا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے بہادر عوام کابل، پکتیکا، قندھار اور خوست کی بجائے اسلام آباد، پشاور، چارسدہ، وزیرستان وغیرہ کی طرف دیکھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان نے ہمیں دہشت گردی، اسمگلنگ، ٹی ٹی پی کی تشکیلیں، معیشت کو نقصان، جرائم وغیرہ کی تمام برائیاں دی ہیں، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ افغانستان مسئلے کا حصہ ہے، حل کا نہیں، پاکستان کے عوام، اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے عوام، اب مزید خوارج اور ٹی ٹی پی کے ساتھ کو ایکزیسٹ نہیں کرنا چاہتے اور وہ ٹی ٹی پی کے فتنے کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے 13 سالہ دورِ حکومت کے بعد، جس میں صرف خوارج اور انکے سہولت کارپلے پھولے، اب خیبر پختونخوا میں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو خیبر پختونخوا اور پاکستان کی عوام کے شانہ بشانہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ پوری ہم آہنگی اور قوت سے لڑیں اور اس جنگ کو صرف پاکستان اور خیبر پختونخوا کے مفادات کو سامنے رکھ کر لڑیں، اس پر اب مزید اور کوئی سمجھوتے ، مصالحتیں نہیں ہوں گی ۔ کیونکہ اب صرف دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ ہوگی۔

WhatsApp
Get Alert