خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ صوبائی خودمختاری پر ڈاکہ ہوگا، زبردستی مسلط غیر منتخب حکومت فوری ختم کی جائے: پشتونخوامیپ کے جلسے کی قراردادیں

عمران خان سے مشاورت کے بغیر سیاسی مذاکرات بے سود، چوری شدہ مینڈیٹ کی واپسی اور سیاسی اسیران کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی حمایت


26ویں اور 27ویں ترامیم دھونس، دباؤ اور فارم 47 والی پارلیمنٹ سے منظور کرائی گئیں، مسترد کرتے ہیں، فوری شفاف عام انتخابات کرائے جائیں
سویلین اتھارٹی بحال کرکے اضلاع سے اختیارات ایف سی کے حوالے کرنے کا عمل روکا جائے، ڈیورنڈ لائن پر تجارت بحال اور پشتونوں کے شناختی کارڈز کی منسوخی بند کی جائے
ژوب اور شیرانی میں سرکاری پراکسیز کے ذریعے امن تباہ کیا جا رہا ہے، دھانہ سر چیک پوسٹ پر عوام کی تذلیل کا سلسلہ بند کیا جائے: عبدالرحیم زیارتوال نے مطالبات پیش کر دیے
ژوب (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام7اکتوبر 1983کے شہدا جمہوریت اور 11اکتوبر 1991کے شہدا وطن کی برسیوں کے موقع پر ضلع ژوب وضلع شیرانی کے زیر اہتمام باز محمد شہید پارک ژوب میں پارٹی کے مرکزی جلسہ عام کی قراردادیں پشتونخوامیپ کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے پیش کی۔
آج کا یہ پروقار عظیم الشان جلسہ عام 7اکتوبر 1983کے شہدا ء جمہوریت اولس یار شہید، کا کا محمود شہید، داؤد شہید اور رمضان شہید اور 11اکتوبر 1991کے شہدا وطن عبدالرحیم کلیوال شہید،صابر شاہ شہید،حبیب الرحمن شہید، صاحب خان شہید اور باز محمد باز شہید کو ان کی لازوال قربانیوں پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرتا ہے اور ان کے قومی جمہوری سیاسی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
1۔آج کا یہ پروقار اور عظیم الشان جلسہ عام ملک میں آئین کی بحالی، جمہوریت، چوری شدہ عوامی مینڈیٹ کی واپسی اور عمران خان سمیت تمام سیاسی اسیران کی رہائی کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی حمایت کرتا ہے۔
2۔ یہ جلسہ عام خبردار کرتا ہے کہ خیبر پشتونخوا کی منتخب اسمبلی اور حکومت، جو ملک کی واحد صوبائی حکومت ہے جسے حقیقی عوامی مینڈیٹ حاصل ہے، کے خلاف گورنر راج یا نیشنل ایمرجنسی کے ذریعے کسی بھی قسم کی غیر آئینی کارروائی سے باز رہا جائے۔ اس قسم کا کوئی بھی اقدام خیبر پشتونخوا کے عوام کے حق حکمرانی اور صوبائی خودمختاری پر ڈاکہ تصور ہوگا، جس کے مستقبل میں انتہائی سنگین اور بھیانک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
3۔ آج کا یہ پروقار جلسہ عام جنوبی پشتونخوا، خیبر پشتونخوا میں سرکاری پراکسیز کی مسلط کردہ بدامنی، دہشت گردی، ڈاکہ زنی، سرکاری لوٹ مار کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور سرکاری سرپرستی میں جاری بدامنی بند کرنا کا مطالبہ کرتا ہے۔
4۔ آج کا یہ جلسہ عام پشتونوں کی ڈیورنڈ خط کے کراسنگ پوائنٹس پر تجارت بند کرنے، تمام ملک میں پشتونوں کے سرومال کی عدم تحفظ اور شناختی کارڈ کی آئے روز سینکڑوں کے حساب سے منسوخی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور پشتون تاجروں کی تجارت کی بحالی،سرومال کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
5۔ آج کا یہ جلسہ عام 8فروری 2024کو تمام ملک پر زروزور سے مسلط غیر منتخب حکومت کی فوری خاتمے اور آزاد خودمختار الیکشن کمیشن کے ذریعے صاف شفاف اور ایجنسیوں کی مداخلت کے عام انتخابات مسائل کا حل سمجھتا ہے اور عوام کے اختیار کی پائمالی کو بربادی کار استہ سمجھتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
6۔ آج یا یہ پروقار جلسہ عام صوبے کے پشتون اضلاع کوئٹہ، زیارت، ہرنائی، دکی، پشین، قلعہ عبداللہ خان، پشین، شیرانی، ژوب میں حکومتی پراکسیز کے ذریعے امن تباہ کرنے، راستوں کو غیر محفوظ بنانے، سرکاری مقصد اراداتاً امن تباہ کرنے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتاہے۔ اور مطالبہ کرتا ہے کہ بلا تاخیر سرکاری پراکسیز کا خاتمہ کیا جائے اور تمام صوبہ اور تمام اضلاع میں امن قائم کی جائے۔
7۔ آج کا یہ عظیم الشان جلسہ عام ملک کی سیاسی بحران پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کرتا ہے اور ملک پر مسلط ٹولے کو عوامی مینڈیٹ کی کھلی توہین گردانتا ہے اور سیاسی مذاکرات ملک کی حقیقی مینڈیٹ رکھنے والی پارٹی کے بانی رہنماء عمران خان سے ملاقات اور مشاورت کے بغیر بے سود ہونگے یہ جلسہ عام مطالبہ کرتا ہے کہ عمران خان کی ملاقات اور مشاورت سے مذاکرات ثمر آمد ہوسکتے ہیں۔
8۔ یہ جلسہ عام تمام صوبے میں سویلین اتھارٹی ختم کرنے، ضلعی انتظامیہ کے اختیارات ایف سی کے کرنلز کے حوالے کرنے اور ساتھ محکمہ کسٹم، ایف سی کے حوالے کرنے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور تمام صوبے سے ایف سی کو فی الفور ہٹایا جائے۔
9۔ آج کا یہ پروقار جلسہ عام افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی پر اپنی سخت تشویش اور برہمی کا اظہار کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ دو سیال اور برابر ملکوں کے درمیان معاملات افہام وتفہیم سے پر امن بقاء باہمی کے سیاسی اصول کے تحت مسائل کا حل ہو۔
10۔ یہ جلسہ عام سمجھتا ہے کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو دھونس، دباؤ اور جبر کے ماحول میں،فارم47کے ذریعے تشکیل دی گئی، پارلیمنٹ سے منظور کرایا گیا ہے۔ یہ جلسہ عام ان ترامیم کو مسترد کرتاہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ آزاد خودمختار الیکشن کمیشن کے زیر نگرانی نئے، شفاف اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں۔ آئین کی بحالی، جمہور کی حکمرانی کو تسلیم کیا جائے اور پارلیمنٹ کی خودمختاری بحال کی جائے اور ملک کو قوموں کی برابری کا حقیقی جمہوری فیڈریشن تسلیم کیا جائے۔
11۔ یہ جلسہ عام سمجھتا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے پشتون وطن پر مسلط دہشت گردی اور دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے نتیجے میں ہزاروں پشتون لقمہ اجل بنے جبکہ پشتونوں کی معیشت، معاشرت اور طرز زندگی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ یہ صورتحال ریاستی پالیسیوں اور غیر جمہوری قوتوں کے سیاسی عزائم کا شاخاسانہ ہے۔ یہ جلسہ عام مطالبہ کرتا ہے کہ ریاسٹی سٹیبلشمنٹ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے، سیاست میں مداخلت کا خاتمہ کرے، آئین کی بحالی اور عوام کے حق حکمرانی کو تسلیم کرے اور قومی وسائل پر عوام کے اختیار کو یقینی بناکر دہشت گردی کے مستقل سدباب کے لیے موثر اقدامات اٹھاتے ہوئے اسے ختم کیا جائے۔
12۔ یہ جلسہ عام حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اضلاع ژوب اور شیرانی میں عوام کے جان ومال کا تحفظ اور امن ومان یقینی بنایا جائے، جبکہ کوئٹہ تا ژوب اور ژوب تا ڈیرہ اسماعیل خان شاہراہ کو دن رات آمدورفت کے لیے محفوظ بنایا جائے۔
13۔ یہ جلسہ عام مطالبہ کرتاہے کہ ژوب،ڈیرہ اسماعیل خان ہائی وے اور نیو سبزی منڈی ژوب کے منصوبوں کے لیے فوری طور پر فنڈز فراہم کیئے جائے اور دونوں منصوبوں کو مقرر ہ معیار اور مدت کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔
14۔ یہ جلسہ عام ژوب شہر میں صفائی کی ابتر صورتحال کا فوری نوٹس لینے اور شہر میں صفائی کا موثر اور مستقل نظام یقینی بنانے کا مطالبہ کرتا ہے۔
15۔ یہ جلسہ عام مطالبہ کرتا ہے کہ ژوب میں اعلان کردہ دانش سکول منصوبے کی راہ میں بعض مفاد پرست عناصر کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور اس اہم تعلیمی منصوبے کو جلد از جلدمکمل کیا جائے۔
16۔ یہ جلسہ عام مطالبہ کرتا ہے کہ ضلع شیرانی میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائن فوری طور پر بحال کی جائے اور عوام کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
17۔ یہ جلسہ عام مطالبہ کرتا ہے کہ انزر خیزئی، ستنوو راغہ روڈ اور شین غیر تا ژوب روڈ جن کے ٹینڈرز ہوچکے ہیں پر فوری طور پر تعمیراتی کام شروع کی جائے اور انہیں جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
18۔ یہ جلسہ عام ضلع شیرانی میں این 50- پر دھانہ سر کے مقام پر ایف سی اور کسٹمز کی چیک پوسٹوں پر عوام کو روزانہ بلاجواز تنگ کرنے، روکنے اور ان کی تذلیل کرنے کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ عوام کو درپیش اس اذیت ناک صورتحال کا فوری خاتمہ کیا جائے۔
19۔ یہ جلسہ عام مطالبہ کرتا ہے کہ ضلع شیرانی کے تمام انتظامی اور لائن ڈیپارٹمنٹس کو فوری طور پر ژوب سے ضلع شیرانی منتقل کیا جائے تاکہ عوام کو اپنے بنیادی انتظامی امور کے لیے سہولیات مقامی سطح پر میسر آسکیں۔
20۔یہ جلسہ عام اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ ضلع شیرانی اور ضلع ژوب میں تعلیم، صحت اور شہری سہولیات یا تو سرے سے موجود نہیں یا نتہائی ابتر حالات میں ہیں۔ حکومت ان شعبوں کے لیے ضروری وسائل فراہم کرے اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو موثر بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
21۔ یہ جلسہ عام مطالبہ کرتا ہے کہ ژوب ٹانک ومیر علی خیل روڈ پر فوری طور پر تعمیراتی کام شروع کیا جائے اور اسے مقررہ معیار کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
22۔ یہ جلسہ عام مطالبہ کرتا ہے کہ قمرالدین کاریز کے تاریخی سرحدی گزر گاہ پر تجارت اور مقامی آبادی کی آمدورفت فوری طور پر بحال کی جائے تاکہ سرحدی علاقوں کے عوام کے معاشی اور سماجی مسائل کا ازالہ ہوسکے۔

WhatsApp
Get Alert