طاقتور طبقات اور حکمران اہل بلوچستان کو فوری امن دیں، فوجی آپریشن اور طاقت کے بجائے سیاسی مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے: مولانا ہدایت الرحمن
بلوچستان کی شاہراہیں ویران، عوام پریشان اور معیشت برباد ہو چکی، بارڈرز کی بندش نے جلتی پر تیل کا کام کیا

نوجوانوں کو بندوق کے بجائے تعلیم و روزگار درکار ہے، خیرات نہیں اپنے وسائل پر دسترس مانگتے ہیں، فارم 47 کا جبر بند کیا جائے
کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ طاقتور طبقات، حکمرانوں اور مقتدر قوتوں کو اہل بلوچستان کو ہر قیمت پر فوری اور دیرپا امن دینا ہوگا۔بدامنی،بدعنوانی اور دہشت گردی نے پورے بلوچستان کو متاثر کر رکھا ہے۔طاقت کے استعمال اور فوجی آپریشن کے بجائے امن کے قیام کے لیے مذاکرات، بامقصد بات چیت اور سیاسی حل کا راستہ اختیار کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں وفود سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی شاہراہیں ویران اور عوام پریشان ہیں۔بدامنی اور قتل و غارت گری سے ہر علاقہ متاثر ہے، معیشت اور تجارت تباہ ہوچکی ہے۔ حکومتی سطح پر روزگار کے مواقع نہیں، نہ ہی سرکار کی طرف سے روزگار اور کاروبار کے لیے کارخانے قائم کیے گئے ہیں، جبکہ بارڈرز کی بندش نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ ہر طرف غربت، بے روزگاری اور پریشانی کے ساتھ بدعنوانی و بدامنی کا دور دورہ ہے، معیشت تباہ، عوام بدحال اور جان و مال غیر محفوظ ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو بندوق نہیں بلکہ تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع درکار ہیں۔خیرات نہیں وسائل پردسترس اورحقوق چاہییحکومت فوری طور پر عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے امن ترقی اورخوشحالی کیلئے عملی اقدامات کرے۔ طاقت اور جبر اورفارم47کے بجائے حقیقی سیاسی قیادت، عوام سے مخلص قبائلی عمائدین اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایسا جامع امن منصوبہ بنایا جائے جو بلوچستان کے عوام کے مسائل کا مستقل حل پیش کرسکے۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی ان مظالم اور عوامی مسائل کے خلاف اسمبلی کے اندروباہرہرجگہ ہرفورم پر آواز بلند کر رہی ہے، احتجاج، دھرنے اور جلسے کیے جارہے ہیں۔ عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں تاکہ امن و امان بحال، انصاف و عدل کا اسلامی نظام قائم اور بلوچستان کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق مل سکیں۔
