بیرسٹر گوہر کا بامقصد سیاسی مذاکرات پر زور، گورنر راج اور ایمرجنسی کو مسائل کا حل ماننے سے انکار

چارسدہ(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت بامقصد سیاسی مذاکرات کے لیے تیار ہے، حکومت اور اپوزیشن اپنے اختلافات اور انا کو ایک طرف رکھ کر سیاسی مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کریں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق بیرسٹر گوہر علی خان نے امید ظاہر کی کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمان کو اپوزیشن اتحاد میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی۔ تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنی انا اور ذاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں تاکہ ملک کو درپیش سیاسی مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے ملک میں جاری سیاسی تعطل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اس صورت حال سے نکلنے اور سیاسی معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات صوبے کے مسائل کا حل نہیں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسائل کو آئینی اور سیاسی طریقوں سے حل کیا جانا چاہیے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ان کی جماعت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے کبھی دہشت گردوں کی حمایت میں کوئی بیان نہیں دیا۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے تمام سیاسی رہنماؤں اور متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں کمی، سیاسی استحکام اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مذاکرات اور باہمی تعاون کا راستہ اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہی آگے بڑھنے کا مؤثر راستہ ہے۔
