ایمرجنسی پر ظاہری اتفاق کے باوجود پسِ پردہ اختلافات موجود ہیں، سہیل وڑائچ کا دعویٰ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے ملک کی موجودہ سیاسی و انتظامی صورتحال پر اپنے تجزیے میں دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے معاملے پر بظاہر مقتدرہ، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ایک صفحے پر نظر آ رہے ہیں، تاہم اس ظاہری اتفاقِ رائے کے باوجود ان اتحادیوں کے درمیان پسِ پردہ متعدد اختلافات اب بھی موجود ہیں۔
سہیل وڑائچ نے اپنے کالم میں انکشاف کیا ہے کہ اس وقت ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی آئینی و سیاسی تجاویز سب سے اہم ایشو بن کر سامنے آئی ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سخت سیاسی بیانات کے باوجود صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی اعلیٰ ترین سطح پر روزانہ کی بنیاد پر اہم ترین شخصیات سے ملاقاتیں جاری ہیں جن میں نئے صوبوں اور ان سے جڑی مختلف متبادل تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے، اگرچہ ان اندرونی اختلافات کے حل کے لیے ابھی تک کوئی حتمی فارمولا سامنے نہیں آ سکا، لیکن اس حوالے سے خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں مسلسل مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
بظاہر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے میں مقتدرہ نون اور پیپلز پارٹی سب ایک ہی صفحے پر آگئیں اور اس مشکل ترین سیاسی اقدام کو باہمی صلاح مشورے سے انجام دیا۔ گو تحریک انصاف اور پختونخوا کے معاملے پر تینوں اکٹھے نظر آئے مگر ان کے باہمی ظاہری اتفاق کے باوجود قالین کے نیچے انکے آپس کے اختلافات چھپے ہوئے ہیں نئے صوبوں کا معاملہ سب سے اہم ایشو ہے صدر زرداری کی نہایت اعلیٰ سطح پر کچھ ملاقاتوں کی خبر ہے ان ملاقاتوں میں نئے صوبے اور ان کی کئی متبادل تجاویز پر بات ہوئی ہے بلاول بھٹو کے زوردار مخالفانہ بیانات کے باوجود صدر زرداری ہر روز نظام کے کسی نہ کسی اہم ترین فرد سے ملاقات کر رہے ہیں گو ابھی تک ان اختلافات کے تصفیہ کا کوئی فارمولا سامنے نہیں آیا مگر ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے پر مسلسل مذاکرات جاری ہیں مذاکرات کا ماحول تلخ نہیں بلکہ دوستانہ ہے
https://t.co/DvAwsuTpJW— Suhail Warraich (@suhailswarraich) October 12, 2026
موجودہ ہائبرڈ سیاسی نظام اور انتظامی فیصلے کا پسِ منظر بیان کرتے ہوئے تجزیہ کار نے لکھا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کو پہلے مسلم لیگ ن اور پھر پیپلز پارٹی نے اپنے اپنے طور پر ٹالنے اور ملتوی کرنے کی ممکنہ کوشش کی، تاہم مقتدر حلقوں کی حتمی رائے اور ہدایت کے بعد اس فیصلے پر عملدرآمد ہونا ہی تھا، اب یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے اس فیصلے کے ملک پر کیا سیاسی، انتظامی اور سماجی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
سہیل وڑائچ نے مزید کہا کہ سیاسی حوالے سے سب سے نمایاں پیش رفت یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف موجودہ ملکی نظام کے دھارے سے مکمل طور پر باہر ہو چکی ہے، خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف نے نگران دور کے علاوہ تقریباً 13 سال تک اقتدار سنبھالا جو کہ صوبائی تاریخ کا ایک نیا ریکارڈ تھا اور اس دوران پرویز خٹک، محمود خان، علی امین گنڈاپور اور حال ہی میں سہیل آفریدی نے بطور وزیراعلیٰ صوبے کی قیادت کی۔
