فلم وہی، اسکرپٹ وہی، ہدایتکار وہی، بس کردار اپڈیٹ! نئے فنکاروں اور اداکاروں کو مبارک ہو، حافظ حمد اللہ
جو ذمہ داری عائشہ گلالئی کو دی گئی تھی، وہی ذمہ داری اس بار مریم نواز اور عظمیٰ بخاری کو دی گئی ہے؛ ن لیگ کی مولانا فضل الرحمان پر تنقید پر جے یو آئی ف کے رہنماء کا ردعمل

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)جمعیت علمائے اسلام ف کے مرکزی رہنماء سابق سینیٹر حافظ حمداللہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جو سیاسی کردار ماضی میں عائشہ گلالئی کو سونپا گیا تھا، اب وہی ذمہ داری موجودہ دور میں مریم نواز اور عظمیٰ بخاری کو دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں حافظ حمداللہ نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ جو ذمہ داری عائشہ گلالئی کو دی گئی تھی، وہی ذمہ داری اس بار مریم نواز اور عظمی بخاری کو دی گئی ہے، اس بار بھی فلم وہی ہے، اسکرپٹ وہی ہے اور ہدایت کار بھی وہی ہیں۔
حافظ حمداللہ کہتے ہیں کہ فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ اب پرانے کرداروں کی جگہ نئے اداکاروں کو اپڈیٹ کر دیا گیا ہے، اس کے علاوہ انہوں نے نئے فنکاروں اور اداکاروں کو اس مبینہ نئی ذمہ داری ملنے پر طنزیہ انداز میں مبارکباد بھی پیش کی اور کہا کہ نئے فنکاروں اور اداکاروں کو مبارک ہو۔
جو ذمہ داری عائشہ گلالئی کو دیگئی تھی ، وہی ذمہ داری اس بار مریم نواز اور عظمی بخاری کو دیگئی ہے ، لیکن فلم وہی ، اسکرپٹ وہی ، ہدایت کار وہی ، بس کردار اپڈیٹ ہوگئے، نئے فنکاروں اور اداکاروں کو مبارک ہو۔۔
— Hafiz Hamdullah (@iHafizHamdullah) October 17, 2026
جمعیت علمائے اسلام ف کے مرکزی رہنماء سابق سینیٹر حافظ حمداللہ کا یہ ردعمل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں ان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان جیسے سینئرسیاستدان سے دہشتگردی کی پشت پناہی کرنے والوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی، ان سے پوچھا جائے کہ کیا 13 سال میں وہ کسی ایک شہید کے جنازے میں شریک ہوئے؟۔
مریم نواز نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان جیسے سینئر سیاستدان، جو خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں، ان سے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی، نااہلی، نالائقی اور کرپشن سے خیبر پختونخواہ کی بربادی کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے ان کی حمایت میں بات کرنا نہایت افسوسناک ہے، جن کی حمایت میں بیانات جاری ہو رہے ہیں، ان سے پوچھا جائے کہ کیا تیرہ سال میں وہ کسی ایک شہید کے جنازے میں بھی شریک ہوئے؟ الٹا دہشت گردوں کو پناہ دی، انہیں پالا پوسا اور پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لیے وسائل، پناہ گاہیں اور اپنے صوبے کی زمین فراہم کی۔
مولانا فضل الرحمٰن جیسے سینئر سیاستدان، جو خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں، ان سے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی۔ نااہلی، نالائقی اور کرپشن سے خیبر پختونخوا کی بربادی کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے ان کی حمایت میں بات کرنا نہایت افسوسناک ہے۔
جن کی حمایت میں بیانات جاری ہو رہے ہیں، ان سے پوچھا جائے کہ کیا تیرہ سال میں وہ کسی ایک شہید کے جنازے میں بھی شریک ہوئے؟ الٹا دہشت گردوں کو پناہ دی، انہیں پالا پوسا اور پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لیے وسائل، پناہ گاہیں اور اپنے صوبے کی زمین فراہم کی۔
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خیبر پختونخوا میں نااہلی کے انبار لگا دیے، وہاں کے عوام کی زندگیاں تباہ و برباد کر دیں اور انہیں دہشت گردی کی نذر کر دیا۔ صوبے کے قیمتی وسائل دھرنوں اور احتجاجوں پرخرچ کر دیے، اور تیرہ قیمتی سال کرپشن اور نالائقی کی نذر کر دیے۔
جس سپہ سالار نے معرکۂ حق میں ملک کو تاریخی فتح سے ہمکنار کیا اور جس کی قیادت میں پاکستان کو حرمین شریفین کے تحفظ کا اعزاز ملا، اس کے بارے میں مولانا صاحب کے الفاظ نے ہر محبِ وطن پاکستانی کا دل دکھایا ہے۔
پاک فوج کے افسر اور جوان آج بھی دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں۔ ہر روز کسی ماں کا لختِ جگر، کسی بہن کا بھائی اور کسی کا شوہر سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر گھر آتا ہے۔ان شہیدوں کے لہو کو سلام پیش کرنے اور اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے دہشت گردی کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کا ساتھ دینا آپ کے شایانِ شان نہیں۔
آپ کی جماعت نے خود دہشت گردی کے زخم سہے ہیں، آپ کے ساتھیوں نے شہادتیں دی ہیں۔ اور جن کی حمایت میں آج آپ کھڑے ہیں، کل یہی آپ کے بارے میں انتہائی ناشائستہ زبان استعمال کرتے اور ذاتی حملے کرتے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے متاثرین کا دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا کم از کم میری سمجھ سے باہر ہے۔
خیبر پختون خواہ میں میں اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار اور کوئی نہیں تحریک انصاف خود ہے۔
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) October 16, 2026
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خیبر پختونخواہ میں نااہلی کے انبار لگادیئے، وہاں کے عوام کی زندگیاں تباہ و برباد کر دیں اور انہیں دہشت گردی کی نذر کر دیا، صوبے کے قیمتی وسائل دھرنوں اور احتجاجوں پرخرچ کر دیے، اور تیرہ قیمتی سال کرپشن اور نالائقی کی نذر کر دیئے، جس سپہ سالار نے معرکۂ حق میں ملک کو تاریخی فتح سے ہمکنار کیا اور جس کی قیادت میں پاکستان کو حرمین شریفین کے تحفظ کا اعزاز ملا، اس کے بارے میں مولانا صاحب کے الفاظ نے ہر محبِ وطن پاکستانی کا دل دکھایا۔
