اقرار الحسن کا مزید 2 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور

سابقہ جسمانی ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے کے بعد اقرار الحسن کو این سی سی آئی اے کے حکام کی جانب سے سخت سکیورٹی حصار میں اور ہتھکڑی لگا کر جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش کیا گیا


کراچی (قدرت روزنامہ) عدالت نے اینکر پرسن اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ میں دو روز کی توسیع کردی۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں عوام راج پارٹی کے سربراہ اور اینکر پرسن اقرار الحسن کے خلاف درج مقدمے کی سماعت ہوئی جہاں عدالت نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو روز کی توثیق کر دی ہے جبکہ ان کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی درخواست کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ سابقہ جسمانی ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے کے بعد اقرار الحسن کو این سی سی آئی اے کے حکام کی جانب سے سخت سیکیورٹی حصار میں اور ہتھکڑی لگا کر جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش کیا گیا، اس اہم موقع پر تفتیشی حکام کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم سے مزید تفتیش اور کیس کے اہم شواہد اکٹھے کرنے کے لیے جسمانی ریمانڈ کی مدت میں توسیع ناگزیر ہے، لہٰذا اس بنیاد پر عدالت سے استدعا کی گئی کہ ان کے ریمانڈ میں مزید اضافہ کیا جائے۔
اقرار الحسن کے وکلاء نے عدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے مؤقف پیش کیا کہ ان کے مؤکل کے خلاف دائر کردہ مقدمہ بے بنیاد ہے اور اس میں کوئی قانونی وزن نہیں ہے، اس لیے عدالت سے استدعاء کی گئی کہ انہیں فوری طور پر اس مقدمے سے ڈسچارج کر دیا جائے، دونوں اطراف کے دلائل مکمل ہونے کے بعد معزز عدالت نے جسمانی ریمانڈ میں توسیع سے متعلق درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
معلوم ہوا ہے کہ کچھ دیر بعد عدالت نے اپنا محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ میں دو دن کی مزید توسیع کی منظوری دے دی، جب کہ ان کے دفاعی وکلاء کی جانب سے دائر کردہ ڈسچارج کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا، عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے فورا بعد این سی سی آئی اے کے حکام نے ملزم اقرار الحسن کو اپنی تحویل میں لیا اور انہیں لے کر وہاں سے روانہ ہو گئے، عدالتی کارروائی کے دوران اقرار الحسن کے اہل خانہ اور فیملی ممبران بھی بڑی تعداد میں احاطہ عدالت میں موجود رہے۔

WhatsApp
Get Alert