بلوچستان میں بدامنی عروج پر، حکومت سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنانے کے بجائے امن کے قیام پر توجہ دے: مولانا ہدایت الرحمن

لوگ لاپتہ اور شاہراہیں غیر محفوظ ہیں، جمہوری جدوجہد کرنے والوں کو فورتھ شیڈول میں ڈالنا حکومتی نااہلی کا ثبوت ہے: سیکریٹری داخلہ سے گفتگو


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو سیاسی کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کے بجائے صوبے میں امن و امان کی بحالی، جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ پر توجہ دینی چاہیے۔سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقت سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی عروج پر ہے، لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں اور شاہراہیں بند ہیں۔ ایسے حالات میں عوامی مسائل اور مشکلات پر آواز اٹھانا سیاسی جماعتوں اور کارکنوں کا جمہوری حق ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں عوامی مسائل کے خلاف جمہوری احتجاج اور مزاحمت نہیں کریں گی تو پھر کون کرے گا؟انہوں نے پرامن جمہوری جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات کے اندراج اور ان کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکنوں کو دبا میں لانے کے بجائے ان کے تحفظات دور کیے جائیں اور آئین و قانون کے مطابق شہریوں کے بنیادی حقوق یقینی بنائے جائیں۔ملاقات میں بلوچستان میں امن و امان کے قیام، جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور فورتھ شیڈول میں شامل سیاسی کارکنوں کے نام فہرست سے خارج کرنے سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ جمیل رند بھی موجود تھے۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ جبری گمشدگیوں کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے، لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور سیاسی کارکنوں کو فورتھ شیڈول سے نکالنے کے معاملے پر فوری پیش رفت کی جائے۔انہوں نے کہا کہ پرامن سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ عوام میں بے چینی بڑھے گی، اس لیے تمام معاملات افہام و تفہیم اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے حل کیے جانے چاہییں۔اس موقع پر سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقت نے ان امور پر ہر ممکن اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

WhatsApp
Get Alert