فرانس میں ہنگاموں کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرانے پر میکرون ٹرمپ اور نیتن یاہو پر برس پڑے

فرانسیسی صدر نے غیر ملکی رہنماؤں کے بیانات کو احمقانہ اور ناقابل قبول قرار دے دیا، کہا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز کی بنیاد پر فرانس کیخلاف جھوٹا بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے، ہمارے ملک کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ نہ بنائیں


پیرس(قدرت روزنامہ)فرانس میں مہنگائی کیخلاف احتجاج کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات کو مسلمانوں اور تارکین وطن سے جوڑنے پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ فرانسیسی صدر نے غیر ملکی رہنماؤں کے بیانات کو ناقابل قبول اور احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بعض عالمی رہنما فرانس کے حالات کو اپنے سیاسی اور انتخابی مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں اے ایف پی اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر میکرون نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فرانس میں حالیہ ہنگاموں کے بعد معلومات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد حتیٰ کہ غیر ملکی رہنماؤں نے بھی غیر ذمہ دارانہ بیانات دیے۔
میکرون نے اپنی گفتگو میں کسی رہنما کا نام نہیں لیا، تاہم جب صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ کیا ان کا اشارہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کا اشارہ ٹرمپ سمیت دیگر رہنماؤں کی طرف بھی ہے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو نے فرانس کے ہنگاموں کو مسلمانوں اور تارکین وطن سے جوڑ دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں حالیہ بدامنی پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں ہونے والے پرتشدد واقعات کا تعلق تارکین وطن، جہادی عناصر اور کمیونسٹوں سے ہے۔ انہوں نے فرانسیسی حکومت کو سرحدیں بند کرنے اور حالات پر قابو پانے کا مشورہ بھی دیا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی فرانس میں ہونے والے واقعات کو شدت پسند اسلام کی یلغار سے تعبیر کیا۔ ان بیانات کے بعد فرانس میں ہونے والے احتجاج اور تشدد کی وجوہات سے متعلق بین الاقوامی سطح پر بحث شروع ہوگئی۔ فرانسیسی صدر نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر دینا بالکل غلط ہے کہ فرانس پر مسلمان تارکین وطن یا اسلام پسندوں نے یلغار کر دی ہے۔
ان کے مطابق بعض رہنما اپنے ملکوں میں انتخابات کے پیش نظر فرانس کے اندرونی مسائل کو سیاسی فائدے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔
فرانس کے ہنگاموں کی جعلی AI ویڈیوز بھی گردش کرنے لگیں
صدر میکرون نے انکشاف کیا کہ فرانس میں ہنگاموں کے دوران سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے تیار کردہ ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھی پھیلائی گئیں جن میں ایسے مناظر دکھائے گئے جو حقیقت میں فرانس میں پیش ہی نہیں آئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بعض غیر ملکی رہنما ان جعلی مناظر اور گمراہ کن معلومات سے متاثر ہو کر بیانات دے رہے ہیں، حالانکہ انہیں حقائق کی تصدیق کرنی چاہیے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے بھی کہا کہ فرانس متعلقہ ممالک کو حقائق سے آگاہ کرنے کیلئے تیار ہے تاکہ سوشل میڈیا پر بے بنیاد دعوؤں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ تاہم میکرون نے واضح کیا کہ وہ فرانس میں ہونے والے اصل احتجاج اور ہنگاموں کو کسی بیرونی مداخلت کا نتیجہ قرار نہیں دے رہے، بلکہ ان واقعات کے بعد بیرون ملک سے پھیلائی جانے والی گمراہ کن معلومات پر اعتراض کر رہے ہیں۔
فرانس میں احتجاج کیوں ہو رہا ہے اور حالات کیسے خراب ہوئے؟
فرانس میں حالیہ احتجاج کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی گزارنے کے اخراجات میں اضافہ ہے۔ 17 اکتوبر کو ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے جن میں مزدور تنظیموں، طلبہ اور دیگر شہریوں نے شرکت کی۔ بیشتر مظاہرے پُرامن رہے، تاہم بعض مقامات پر احتجاج پرتشدد صورت اختیار کر گیا۔
پیرس، مارسیئے اور دیگر شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے جبکہ متعدد کاروباری مراکز کو نقصان پہنچا۔ فرانسیسی حکومت نے بعض علاقوں میں رات کے اوقات میں کرفیو اور اجتماعات پر پابندیوں سمیت اضافی حفاظتی اقدامات بھی کیے ہیں۔ صدر میکرون نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری معاشرے میں احتجاج کا حق اپنی جگہ موجود ہے، لیکن کسی بھی صورت میں تشدد کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
فرانسیسی حکومت کو 24 اکتوبر کو مزید احتجاجی مظاہروں کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کیلئے سکیورٹی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں۔ صدر میکرون نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ مظاہروں کے دوران شہروں میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کرنے والوں کو روکا جائے گا۔ فرانسیسی صدر کے تازہ بیانات نے فرانس کے اندرونی بحران کے ساتھ ساتھ عالمی سیاست میں تارکین وطن، مسلمانوں اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی جعلی معلومات کے کردار سے متعلق ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

WhatsApp
Get Alert