بلوچستان کی بربادی میں ظالم حکمرانوں کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ نواز سردار بھی برابر کے شریک ہیں: مولانا ہدایت الرحمن
زمینوں پر قبضے، بھتہ خوری اور اغواء قبائلی روایات نہیں، بندوق اور طاقت کے بجائے انصاف اور مذاکرات سے راستہ نکلے گا: امیر جماعت اسلامی

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ اگر عدالتیں عوام کو انصاف فراہم نہیں کر رہیں تو اسٹیبلشمنٹ کے سہارے کھڑے ظالم سرداری نظام کو بھی قوم قبول نہیں کرے گی۔ کیاسرداروں اور نوابوں نے بلوچستان کے عوام کو اعلیٰ تعلیمی ادارے،معیاری ہسپتال اور روزگار کے مواقع فراہم کیے ہیں؟بلوچستان کے موجودہ حالات کی خرابی میں ظالم حکمرانوں کے ساتھ ظلم کرنے والے سردار بھی برابر کے شریک ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو اور مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ زمینوں پر قبضے، قتل و غارت گری، بھتہ خوری، قبائلی جھگڑے اور لوگوں کو اغواء کرنا کیا یہی قبائلی نظام اور قوم کی خدمت ہے؟قبائلی روایات کا مقصد عوام کو تحفظ، انصاف اور عزت فراہم کرنا ہونا چاہیینہ کہ لوگوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنا اور ان کے بنیادی حقوق سلب کرنا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام مزید محرومیوں، ناانصافیوں اور بدامنی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ صوبے کے وسائل پر یہاں کے عوام کا حق تسلیم کیا جائے اور عوام کو تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور تحفظ کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ عوام کو سرداری، جاگیرداری اور استحصالی نظام کے چنگل سے نکال کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے جہاں کسی غریب کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور ہر شہری کو یکساں حقوق حاصل ہوں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کا راستہ بندوق، خوف، دھونس اور طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ تعلیم، انصاف، امن، مذاکرات اور عوامی اعتماد سے نکلتا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں،لاپتہ افراد کے مسئلے کو قانون کے مطابق حل کریں، بے روزگاری کے خاتمے کے لیے عملی منصوبہ بندی کریں اور نوجوانوں کو تعلیم و روزگار کے بہتر مواقع فراہم کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ ظلم، ناانصافی، بدعنوانی، اقربا پروری اور عوام کے استحصال کا خاتمہ کیا جائے۔ قانون کی حکمرانی قائم کیے بغیر نہ امن ممکن ہے اور نہ ہی ترقی و خوشحالی کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے اور کسی کو قانون سے بالاتر نہ سمجھے۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کو مایوسی سے نکالنے، ان کے حقوق کے تحفظ اور صوبے میں امن، ترقی، تعلیم، روزگار اور خوشحالی کے قیام کے لیے ہر فورم پر جدوجہد جاری رکھے گی۔ جماعت اسلامی کی سیاست کا مقصد اقتدار کا حصول نہیں بلکہ عوام کی خدمت، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور ایک منصفانہ معاشرے کا قیام ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو تقسیم کرنے، ان کے وسائل پر قبضہ برقرار رکھنے اور انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کی سیاست اب ختم ہونی چاہیے۔ وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی، سماجی اور قبائلی قیادت ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر صوبے کے مستقبل کے لیے متحد ہو۔ جماعت اسلامی عوام کو متحد کرکے بلوچستان کو امن، انصاف، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
