یہ پورا نظام بدلنا چاہیئے، صوبوں کا معاملہ اصل میں اختیار کی لڑائی بن چکی ہے، عاصمہ شیرازی

سیاسی جماعتیں، مقتدرہ یا دیگر اسٹیک ہولڈرز اختیار کو اپنے ہاتھ سے نہیں نکالنا چاہتے، پنجاب کے اندر نئے صوبے کی ضرورت ہے لیکن کیا تخت لاہور تقسیم چاہتا ہے؟ صحافی عاصمہ شیرازی


لاہور(قدرت روزنامہ)سینئر صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ یہ پورا نظام بدلنا چاہیئے، صوبوں کا معاملہ اصل میں اختیار کی لڑائی بن چکی ہے، سیاسی جماعتیں، مقتدرہ یا دیگر اسٹیک ہولڈرز اختیار کو اپنے ہاتھ سے نہیں نکالنا چاہتے، پنجاب کے اندر نئے صوبے کی ضرورت ہے لیکن کیا تخت لاہور تقسیم چاہتا ہے؟ ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دو صوبوں پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں نئے صوبے بنانے کی قراردادیں آچکی ہیں، لیکن کونسی طاقت ہے کہ جو روک رہی ہے کہ نئے صوبے نہ بنائے جائیں۔
خیبرپختونخواہ میں انتظامی یونٹس کے حوالے سے پہلے ہی ، جو ابھی فیصلہ ہوا ہے جس میں 12اضلاع کو انتظامی یونٹ بنایا۔
کچھ دن پہلے ہم بلوچستان میں تھے تو وہاں پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے ہر ضلعے کو انتظامی یونٹس میں تبدیل کردیا ہے، اس لئے خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں انتظامی یونٹس کا آئیڈیا عملدرآمد ہوچکا ہے۔ کیونکہ وہاں پر مقتدرہ کا رعب دبدبا زیادہ ہے وہاں یہ کام شروع ہوچکا ہے۔


لیکن سندھ کی عوام کے خلاف جاکر صوبے بنانا خواہش ہوسکتی ہے زبردستی نہیں کی جاسکتی۔پنجاب کے اندر بالکل نئے صوبے کی ضرورت ہے کیونکہ وہاں 500کلومیٹر سے اٹھ کر ڈی جی خان سے لوگ لاہور آتے ہیں۔اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نئے صوبے بنیں۔ لیکن کیا تخت لاہور تقسیم چاہتا ہے؟
یہ اقتدار کا نہیں بلکہ اختیار کا معاملہ بن چکا ہے، اس آئیڈیا کے ساتھ اس اختیار کو چیلنج کیا جارہا ہے۔
یہی وہ مسئلہ ہے جو سیاسی جماعتوں کو درپیش ہے کہ پنجاب میں 180 نشستیں جیت کر ہم وفاق میں حکومت بنا سکتے ہیں، ہمیں کیا لگے کہ ہم نے بلوچستان یا خیبرپختونخواہ میں بھی کارکردگی دکھانی ہے یا نہیں؟یہ اصل میں اختیار کی لڑائی ہے جو سیاسی جماعتیں ، مقتدرہ یا دیگر اسٹیک ہولڈرز اپنے ہاتھ سے نہیں نکالنا چاہتے۔یہ پورا نظام بدلنا چاہئے اس کیلئے نئے سوشل کنٹریکٹ کی ضرورت ہے۔

WhatsApp
Get Alert