پاکستان میں عالمی فیشن برانڈز کے کپڑے تیار کرنے والے مزدور کن حالات میں کام کر رہے ہیں؟ امریکی میڈیا کی تشویشناک رپورٹ

فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے بے ہوش ہونے، سانس لینے میں مشکلات اور تنخواہوں میں کٹوتیوں کے انکشافات، Zara اور Mango جیسے عالمی برانڈز نے حفاظتی اقدامات بہتر بنانے کا مؤقف پیش کر دیا


کراچی(قدرت روزنامہ)پاکستان میں عالمی فیشن برانڈز کیلئے کپڑے تیار کرنے والی بعض فیکٹریوں کے مزدور شدید گرمی اور ناکافی حفاظتی انتظامات کے باعث سنگین طبی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کی خصوصی رپورٹ کے مطابق کراچی کی متعدد گارمنٹس فیکٹریوں میں کام کرنے والے ملازمین نے شدید گرمی کے باعث بے ہوش ہونے، سانس لینے میں مشکلات، بینائی دھندلانے اور دیگر صحت کے مسائل کی شکایات کی ہیں۔
21 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ، جسے ہانگ کانگ کے اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے بھی شائع کیا، میں بتایا گیا ہے کہ کراچی میں ایک درجن سے زائد مزدوروں کے انٹرویوز کیے گئے۔ ان تمام افراد نے کام کی جگہ پر شدید گرمی اور اس سے پیدا ہونے والے صحت کے مسائل کا ذکر کیا، جبکہ 10 مزدور ایسی مصنوعات تیار کرتے ہیں جو امریکہ اور یورپ میں فروخت ہونے والے عالمی برانڈز کیلئے بنائی جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً تمام مزدوروں نے بتایا کہ گرمی کے باعث بیمار ہونے اور کام سے چھٹی کرنے پر ان کی اجرت کاٹ لی جاتی ہے۔ ان افراد نے ملازمت سے نکالے جانے یا انتقامی کارروائی کے خدشے کے باعث اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔
ماہانہ 15 ہزار روپے کمانے والی خاتون مزدور فیکٹری میں بے ہوش ہوگئی
رپورٹ میں کراچی کی 28 سالہ خاتون مزدور صدیقی کی کہانی بیان کی گئی ہے، جو اپنی شناخت مکمل طور پر ظاہر نہیں کرنا چاہتیں۔
وہ ایک ایسی فیکٹری میں کپڑے سیتی ہیں جہاں ان کے مطابق اسپین کے معروف فیشن برانڈز Zara اور Mango کیلئے ملبوسات تیار کیے جاتے ہیں۔ خاتون کے مطابق فیکٹری میں بھاری مشینری سے پیدا ہونے والی گرمی، حبس اور ہوا کی ناکافی آمدورفت کے باعث ایک دن ان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔ انہیں چکر آنے لگے، دل کی دھڑکن تیز ہوگئی اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔
انہوں نے بتایا کہ ساتھی ملازمین نے سپروائزر کو بلایا، تاہم انہیں کام مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ کچھ ہی دیر بعد وہ بے ہوش ہوکر گر پڑیں اور انہیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق خاتون کی ماہانہ آمدنی صرف 15 ہزار روپے ہے اور وہ 6 بچوں کی پرورش کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فیکٹری انتظامیہ نے علاج کے اخراجات ادا نہیں کیے، جس کے باعث گھر میں کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہوگیا۔
فیکٹریوں میں پنکھے خراب، ٹھنڈا پانی اور مناسب وقفے بھی دستیاب نہیں
ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرنے والے مزدوروں نے بتایا کہ بعض فیکٹریوں میں پنکھے خراب یا ناکافی ہیں، کھڑکیاں چھوٹی ہیں اور بھاری مشینری سے پیدا ہونے والی گرمی عمارت کے اندر جمع ہوتی رہتی ہے۔ مزدوروں کے مطابق فیکٹریوں میں درجہ حرارت اور نمی کی نگرانی کیلئے آلات بھی موجود نہیں تھے، جبکہ شدید گرمی کے دوران اضافی وقفے یا ٹھنڈے پانی کی مناسب سہولت فراہم نہیں کی جاتی۔
ایک مزدور نے دعویٰ کیا کہ ان کی فیکٹری میں ہوا کی آمدورفت کا نظام موجود ہے، لیکن اسے صرف اس وقت چلایا جاتا ہے جب معائنہ کرنے والی ٹیمیں فیکٹری کا دورہ کرتی ہیں۔ مزدوروں نے یہ شکایت بھی کی کہ بعض ساتھیوں کے بے ہوش ہونے پر انہیں مختصر آرام یا میٹھا مشروب دے کر دوبارہ کام پر لگا دیا جاتا ہے۔
شدید گرمی سے صحت کو کیا خطرات لاحق ہیں؟
طبی ماہرین کے مطابق زیادہ درجہ حرارت اور نمی میں مسلسل کام کرنے سے جسم میں پانی کی کمی، ہیٹ اسٹروک، بلڈ پریشر میں غیر معمولی تبدیلیوں اور دل و گردوں سمیت مختلف اعضا کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
رپورٹ میں شامل مزدوروں نے ہاتھ پاؤں سوجنے، پٹھوں کی عارضی کمزوری، سانس لینے میں دشواری، دھندلا دکھائی دینے اور شدید تھکاوٹ جیسی علامات بیان کیں۔ گرمی کے انسانی صحت پر اثرات کا مطالعہ کرنے والے ماہر اینڈریاس فلوریس کے مطابق صنعتی ادارے نسبتاً آسان اور کم خرچ اقدامات سے ملازمین کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ ان اقدامات میں فیکٹریوں کے اندر درجہ حرارت کی نگرانی، پینے کے ٹھنڈے پانی کی فراہمی، کام کے دوران مناسب وقفے، بہتر وینٹی لیشن اور مشینری سے پیدا ہونے والی گرمی کو محدود کرنا شامل ہے۔
Zara اور Mango کی مالک کمپنیوں نے کیا جواب دیا؟
رپورٹ میں عالمی فیشن برانڈز کا مؤقف بھی شامل کیا گیا ہے۔ Zara کی مالک کمپنی Inditex نے بتایا کہ وہ اپنی سپلائی چین میں شدید گرمی سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کیلئے اقدامات مضبوط بنا رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق فیکٹریوں کے معائنے، سپلائرز کی رہنمائی، تربیت اور متعلقہ صنعتی پروگراموں کے ساتھ تعاون کے ذریعے مزدوروں کے تحفظ کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب Mango کے ترجمان نے ملازمین کی صحت اور حفاظت کو کمپنی کی بنیادی ترجیح قرار دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال سپلائرز کیلئے ضابطۂ اخلاق میں شدید درجہ حرارت اور گرمی سے متعلق حفاظتی تقاضوں کو مزید واضح کیا گیا ہے۔
سندھ حکومت نے قوانین پر عملدرآمد میں مشکلات تسلیم کر لیں
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مزدوروں کے تحفظ کیلئے قومی اور صوبائی قوانین موجود ہیں، تاہم ان پر مؤثر عملدرآمد ایک اہم چیلنج ہے۔
سندھ حکومت کی ترجمان اور رکن صوبائی اسمبلی سعدیہ جاوید نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متعلقہ قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم صوبے کے وسیع رقبے اور صنعتی علاقوں کی بڑی تعداد کے باعث شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکسٹائل اور گارمنٹس انڈسٹری میں کارکنوں کی صحت و حفاظت کیلئے قائم بین الاقوامی معاہدے کے تحت 2025 میں شدید گرمی کو بھی کام کی جگہ پر ایک خطرہ تسلیم کرتے ہوئے حفاظتی طریقہ کار تیار کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اس حوالے سے مخصوص ضوابط ابھی زیرِ جائزہ ہیں۔
مزدوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتا ہوا درجہ حرارت پاکستان کی صنعتوں کیلئے ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور مقامی فیکٹری مالکان کے ساتھ بین الاقوامی خریدار کمپنیوں کو بھی کارکنوں کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات یقینی بنانا ہوں گے۔

WhatsApp
Get Alert