سعودی حکومت کا عوامی ریلیف پیکج کا اعلان

ریاض (قدرت روزنامہ) سعودی عرب میں عوامی فلاح و بہبود، معاشی استقامت اور شہریوں پر مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے حکومتی سطح پر ایک جامع اور تاریخی معاشی و امدادی حکمتِ عملی کا اعلان کر دیا گیا، خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی خصوصی تجویز پر عمل کرتے ہوئے مملکت کے تمام شہریوں کے لیے ایک شاندار اور وسیع ریلیف پیکج کی باضابطہ منظوری دے دی۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ ریلیف پیکج سعودی انرجی اور نیشنل واٹر کمپنی کی جانب سے یکم جنوری 2027ء سے بجلی اور پانی کے استعمال کے نرخوں میں متوقع تبدیلی کے اعلان کے ساتھ ہی جاری کیا گیا ہے، اس منظور شدہ ریلیف پیکج کے اہم نفاذ کے تحت سول سروس کے تنخواہوں کے اسکیل اور آپریشنل پروگرام کے معاہدوں کے تحت کام کرنے والے تمام سول اور فوجی اہلکاروں کے لیے 500 سعودی ریال ماہانہ الاؤنس کا فوری اضافہ کر دیا گیا ہے۔
The Custodian of the Two Holy Mosques Directs Citizen Support Measures Following HRH the Crown Prince’s Proposal Ahead of 2027 Electricity, Water Tariffs.
https://t.co/eyK2UuFq4w
#SPAGOV https://t.co/jpfShtP57t— SPAENG (@Spa_Eng) October 25, 2026
اس کے علاوہ ریٹائرڈ ملازمین اور وفات پا جانے والے ملازمین يا پنشنرز کے اہل ورثاء کو بھی اس الاؤنس کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ بجلی اور پانی کے ٹیرف میں ردوبدل کے معاشی اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے سوشل سکیورٹی حاصل کرنے والے مستحق خاندانوں کو بھی 500 ریال ماہانہ اضافی وظیفہ فراہم کیا جائے گا، ریلیف پیکج میں نجی شعبے میں کام کرنے والے سعودی شہریوں کے روزگار کو تحفظ دینے کیلئے بھی انقلابی فیصلے کیے گئے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ اس فیصلے کے تحت نطاقات سعودائزیشن پروگرام کے کوٹے میں مکمل شمار ہونے کے لیے کم از کم اجرت کی حد بڑھائی جائے گی، ان اقدامات کے نفاذ کے 6 ماہ بعد کم از کم اجرت 5 ہزار ریال اور اس کے 12 ماہ بعد بڑھا کر 6 ہزار ریال کر دی جائے گی تاکہ نجی شعبے میں شہریوں کی تنخواہوں کو معقول بنیادیں فراہم کی جا سکیں، سعودی عرب کے اس شاہی اقدام کا بنیادی مقصد بجلی اور پانی کے نرخوں میں متوقع اضافے سے عام شہریوں کی قوتِ خرید پر پڑنے والے منفی اثرات کو زائل کرنا اور نجی شعبے میں پائیدار روزگار کو فروغ دینا ہے۔
