پاکستان میں انصاف کی امید ختم ہوچکی ہے، سلمان اکرم راجہ

جس معاشرے میں ہزاروں گھرانوں کے بچے قید ہوں اور انصاف کی امید دم توڑ جائے، وہاں صرف انصاف کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا جنازہ نکلتا ہے، کیا پاکستان آج بھی انگریزوں کے بنائے ہوئے قوانین کے سہارے چلایا جائے گا؟ دفعہ 3 ایم پی او جیسے کالے قانون کا خاتمہ ناگزیر ہے، لاہور میں میڈیا سے گفتگو


لاہور(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ نے ملک میں انسانی حقوق اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرے میں انصاف کی امید ختم ہو جانا اس کی موت کے مترادف ہے۔ عمران خان اور ان کے خاندان کے ساتھ ہونے والے سلوک کے علاوہ ملک میں ہزاروں خاندان بھی مشکلات کا شکار ہیں۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی بات کرتے ہیں، لیکن آج یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ یہ معاملہ صرف عمران خان کے خاندان تک محدود نہیں، اگرچہ انہیں سب سے زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسے سینکڑوں اور ہزاروں خاندان ہیں جن کے بچوں کو کال کوٹھڑیوں میں ڈال دیا گیا ہے، ان پر تشدد کیا جا رہا ہے اور وہ انصاف کی امید بھی کھو چکے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ انصاف کی امید ختم ہو جانا کسی بھی معاشرے کے لیے تباہ کن ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ تھری ایم پی او انگریزوں کے دور کا کالا قانون ہے، جس کے تحت نقص امن کے خدشے پر کسی شخص کو تین مرتبہ 30، 30 دن کے لیے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ اس قانون کو ختم ہونا چاہیے۔ ادھر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کی اچانک طبیعت خراب ہونے اور انہیں ہسپتال منتقلی کے بعد پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے ظلم، جبر اور اخلاقی گراوٹ کی بدترین انتہا قرار دیا گیا تھا پارٹی ترجمان اور قانونی ٹیم کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں الزام عائد کیا گیا کہ حکومت اور انتظامیہ انسانی تمام اخلاقی اقدار کو پامال کر رہی ہے، چیئرمین عمران خان کی بہن نورین نیازی کو اچانک دل کی شدید تکلیف لاحق ہوئی، جس کے بعد انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ہسپتال پہنچنے کے بعد صورتحال انتہائی تشویشناک ہوگئی جب پولیس نے انتہائی سخت اقدامات کرتے ہوئے ان کے آئی سی یو اور وارڈ کے باہر تالے لگا دیئے اور اسے مکمل طور پر سیل کر دیا۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ناصرف یہ کہ ان کے اہل خانہ کو ان سے ملنے نہیں دیا جا رہا بلکہ ان کی صحت کے حوالے سے بھی کسی قسم کی کوئی مصدقہ یا تسلی بخش اطلاع فراہم کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے، یہ بے شرمی اور فسطائیت کی وہ تاریخ ہے جو ماضی میں کبھی نہیں دیکھی گئی، ایک قومی لیڈر کی غیر سیاسی بہنوں کو پہلے ہی طویل عرصے سے بغیر کسی ٹھوس جرم کے قید رکھا گیا ہے، اور اب جب وہ شدید علالت کے باعث ہسپتال کے بستر پر ہیں، تب بھی ان کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔

WhatsApp
Get Alert