پنجاب میں فیکٹریاں بند کرنے سے ہزاروں مزدور متاثر ہوتے ہیں، ماحول کا تحفظ ضروری مگر صنعتوں کا پہیہ نہیں رکنا چاہیے، مریم نواز
اگر آپ بزنس لے کے آرہے ہیں تو میں نہیں پوچھوں گی کہ آپ پیسہ کہاں سے لارہے ہیں، یہ نواز شریف کا پنجاب ہے، یہ ان کی پالیسی ہے، میں نے اس لیے دو سال سےنئے کاروبار پر کوئی نیا ٹیکس لاگو نہیں کیا، وزیر اعلیٰ پنجاب کا تقریب سے خطاب

لاہور(قدرت روزنامہ)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ انتہائی ضروری ہے، تاہم اس کے نام پر فیکٹریوں اور صنعتی یونٹس کو بند کرنا مناسب طریقہ نہیں، کیونکہ اس سے نہ صرف صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے بلکہ ہزاروں مزدوروں کے روزگار پر بھی اثر پڑتا ہے۔ متعلقہ محکمے صنعتوں کی نگرانی کریں، انہیں وارننگز جاری کریں اور ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنائیں، لیکن فیکٹریوں کا کام بند کرانے سے گریز کیا جائے۔
پنجاب انوویشن فار ویلیوا پر چونٹی اینڈ ٹرانسفارمیشن منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ جس ملک میں روزانہ احتجاج ہوں، میٹرو جلائی جائے، آگ لگائی جائے اور لوگ ڈنڈے لے کر سڑکوں پر نکل آئیں، وہاں فیکٹری کھلنے کے بعد مزدور اپنے کام پر کیسے پہنچے گا؟ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کو اورنج لائن میٹرو ٹرین اور گرین بس سروس متعارف کرانے کا کریڈٹ دینا چاہیے، کیونکہ ان سہولیات کے ذریعے مزدور صرف 20، 30 یا 40 روپے خرچ کرکے کام پر پہنچ سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے فیروزپور روڈ پر قائم صنعتی کلسٹر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کی صنعتوں کو بار بار کاروبار دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے کہا جاتا ہے، حالانکہ صنعتی سرگرمیوں اور مزدوروں کے روزگار کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ماحولیات کی نگرانی جاری رکھیں لیکن فیکٹریاں بند کرنے کے بجائے قابل عمل اقدامات کریں۔
ان کا سرمایہ کاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر آپ بزنس لے کے آرہے ہیں تو میں نہیں پوچھوں گی کہ آپ پیسہ کہاں سے لارہے ہیں، یہ نواز شریف کا پنجاب ہے، یہ ان کی پالیسی ہے، میں نے اس لیے دو سال سےنئے کاروبار پر کوئی نیا ٹیکس لاگو نہیں کیا، وزیر اعلیٰ پنجاب کا تقریب سے خطاب مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں پہلی مرتبہ ہنرمندی کی تربیت کے شعبے کو مربوط انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
اس مقصد کے لیے مختلف محکموں کو ایک نظام کے تحت جمع کیا گیا اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ ان کے مطابق صرف 12 ماہ میں 4 لاکھ نوجوانوں کو تربیت فراہم کی گئی ہے جبکہ اگلے سال مزید 6 لاکھ افراد کو ہنرمند بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل، گارمنٹس اور دیگر صنعتی شعبوں کی ضروریات کے مطابق نوجوانوں کو تربیت دی جا رہی ہے تاکہ انہیں روزگار کے بہتر مواقع مل سکیں۔
بیرون ملک ملازمت حاصل کرنے والے پاکستانیوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفکیشن کا نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔ ویزا اور سفری اخراجات برداشت نہ کر سکنے والے نوجوانوں کی مدد کے لیے پرواز کارڈ شروع کیا گیا ہے، جس کے ذریعے سینکڑوں نوجوان بیرون ملک روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے قبضہ مافیا کے خلاف کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں کسی کو بھی سیاسی اثرورسوخ کی بنیاد پر کسی دوسرے کی زمین، گھر، فیکٹری یا پلاٹ پر ناجائز قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ 25، 25 سال پرانی جائیدادوں سے بھی ناجائز قبضے ختم کرائے جا رہے ہیں اور اس کارروائی میں کسی بااثر شخص کو رعایت نہیں دی جا رہی۔ مریم نواز نے وزرا کو بھی ہدایت کی کہ سرکاری پروٹوکول کے نام پر سڑکیں بند کرنے اور نیلی بتیاں جلا کر عوام کو پریشان کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ ضروری سکیورٹی ضرور حاصل کریں لیکن پروٹوکول غیر نمایاں ہونا چاہیے تاکہ حکام عوام سے الگ تھلگ نہ ہوں۔
تجاوزات کے خلاف کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بازاروں اور گزرگاہوں کو کھلا رکھنا ضروری ہے۔ ریڑھی والوں کے لیے مخصوص جگہیں ہونی چاہئیں جبکہ راستے آمدورفت کے لیے ہیں۔ کارروائی میں کسی سیاسی جماعت، خاندان یا طبقے کی بنیاد پر امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔ مریم نواز نے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے 12 سے 13 کروڑ عوام ان کے لیے خاندان کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی صحت و حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ریسٹورنٹس اور فوڈ انڈسٹری سے وابستہ کاروباری افراد کو چاہیے کہ چھاپوں کا انتظار کرنے کے بجائے خود معیاری، صاف اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کیا کھا رہے ہیں اور کس ماحول میں سانس لے رہے ہیں، اس کی حفاظت حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
