سینیٹر ایمل ولی خان نے پاک بھارت جنگ کو مصنوعی قرار دے دیا
ہم نے تو کچھ نہیں دیکھا، یہ تو ٹرمپ ہےجو کبھی چھ، سات اور آٹھ جہاز کردیتے ہیں، فیلڈ مارشل پر مہربان ہیں اور ہندوستان کے لیے دل پر بوجھ ہیں، اس کو میں جنگ نہیں مانتا، جنگ تو ایران اور امریکہ کا ہے، ایران تباہ ہوگیا، ٹی وی پروگرام میں گفتگو

امریکہ(قدرت روزنامہ)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فوجی کشیدگی کو مصنوعی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی باقاعدہ جنگ نہیں تھی بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے فیلڈ مارشل پر غیر معمولی مہربانی کا معاملہ تھا۔ ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ ہم نے تو کوئی ایسی جنگ نہیں دیکھی، ٹرمپ کبھی چھ، سات اور کبھی آٹھ طیارے گرانے کے دعوے کرتے ہیں۔
انہیں سمجھ نہیں آتی کہ وہ کس وجہ سے فیلڈ مارشل پر اتنے مہربان ہیں اور ہر مرتبہ پاکستان کی جانب سے گرائے گئے بھارتی طیاروں کی تعداد میں ایک کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی کشیدگی کو وہ جنگ نہیں سمجھتے۔
ان کے بقول یہ کوئی جنگ نہیں ہوتی کہ ایک فریق چھ جہاز اڑانے اور دوسرے تین راکٹ داغنے کا دعویٰ کرے۔
اے این پی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی نے پاک بھارت جنگ کو مصنوعی قرار دیدیا
ہم نے تو کچھ نہیں دیکھا، یہ تو ٹرمپ ہے کہ کبھی چھ، سات اور آٹھ کردیتے ہیں، فیلڈ مارشل پر مہربان ہیں اور وہاں ہندوستان کے لیے دل پر بوجھ ہیں، اسکو میں جنگ نہیں مانتا، جنگ تو ایران اور امریکہ کا ہے، ایران تباہ ہوگیا، ایمل ولی
— Kamran Ali (@akamran111) October 29, 2026
اینکر کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا ان کے خیال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان صلح کرانے کے لیے جنگ طے شدہ منصوبے کے تحت کروائی تھی؟ اس پر ایمل ولی خان نے جواب دیا کہ یہ بات اینکر ان سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کل اگر ایک ڈرون بھی گر جائے تو اس کا ملبہ سامنے آ جاتا ہے، لیکن اس مبینہ جنگ میں صرف چند پرزے دکھائے گئے اور اسے بڑی جنگ قرار دے دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ خدا نہ کرے پاکستان اور بھارت کے درمیان حقیقی جنگ ہو، کیونکہ جنگ کی تباہ کاریوں کی مثال ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی لڑائی ہے، جہاں ایران تباہ و برباد ہو گیا۔ ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے نتیجے میں عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنایا گیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی قیادت کے لیے مسلسل تعریف اور حمایت بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
