بلوچستان کی مال بردار گاڑیوں کو روکنے کا سلسلہ مزید نہیں چلے گاکسٹمزآپریشنز

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)ممبر کسٹمز آپریشنز سید محمد طا رق ہدیٰ نے کہا ہے کہ قا نونی تجا رت کی را ہ میں روڑے اٹکا نے اور بلو چستان کی کسٹم ڈیوٹی پیڈ ما ل بردار گاڑیوں کو بلا وجہ روکنے کی کسی صورت اجا زت نہیں دی جا ئے گی،بلو چستان کی صنعت و تجا رت سے وابستہ افراد کے مسائل کا حل ہما ری اولین ترجیحات میں شامل ہیں چیمبر آف کا مرس اینڈ انڈسٹری کو ئٹہ بلو چستان کے عہدیداران وممبران کی ٹریڈ سے متعلق تجا ویزپر عمل اور انہیں درپیش مشکلات سے متعلق فوری اقدامات اٹھا ئے جا ئیں گے . ان خیا لا ت کا اظہا ر انہوں نے منگل کو ایوان صنعت و تجا رت کو ئٹہ بلو چستان کے دورے کے موقع پر چیمبر کے عہدایداران و ممبرا ن سے اظہار خیا ل کر تے ہو ئے کیا .

اس سے قبل ممبر کسٹمز آپریشنز سید محمد طا رق ہدیٰ کا چیمبر آ ف کا مرس اینڈ انڈسٹری کو ئٹہ بلو چستان کے صدر فداحسین دشتی، سنیئر نا ئب صدر محمد ایوب مر یا نی اور نا ئب صدر امجد علی صدیقی ایڈووکیٹ و دیگر نے چیمبر پہنچنے پر استقبال کیا . اس موقع پر چیمبر آ ف کا مرس اینڈ انڈسٹری کو ئٹہ کے صدرفداحسین دشتی، سنیئر نا ئب صدر محمد ایوب مر یا نی اور نا ئب صدر امجد علی صدیقی ایڈووکیٹ و دیگر نے ممبر کسٹم آ پریشنزکو خوش آمدید کہتے ہو ئے کہا کہ عرصہ درازسے بلو چستان کی صنعت وتجارت سے وابستہ افراد کی ما ل بر دار گاڑیوں کو کسٹم ڈیوٹی ادائیگی کے با و جود پنجا ب اور سندھ میں بلا وجہ روکا جا رہا ہے ہم چاہتے ہیں کہ مقامی سطح پر پیدا ہو نے والے فریش اور ڈرائی فروٹس کو امپورٹڈ جی ڈیز کے ساتھ لوڈ کیا جا ئے تا کہ بلو چستان کی ما ل بر دار گاڑیوں کو غیر ضروری طور پر دوسرے صو بوں میں روکے جا نے کا سلسلہ رک سکے،انہوں نے کہا کہ امپورٹ اسکریپ کی ویلیو ایشن کی وجہ سے ما ل بردار گاڑیاں تفتان میں کھڑی ہیں ہما را مطا لبہ ہے کہ جب تک اسکریپ امپورٹس کا فرائٹ ڈیفرنس نہیں ہوجاتا اس وقت تک عدالت عالیہ کے احکامات کی روشنی میں VR-1455کے تحت اسکریپ گاڑیوں کو تفتان بارڈر سے کلیئر کرنے کے احکامات دیئے جائیں . انہوں نے کہاکہ ٹرانسشپمنٹ رول 328Aحال ہی میں متعارف کرایا گیا ہے جس کے مطابق ایک گاڑی رکھنے والے ٹرانسپورٹر کو بندرگاہ سے ڈرائی پورٹ تک نقل و حمل کی اجازت دی گئی ہے تاکہ ٹرانسپورٹ میں مقابلے کی فضاء قائم ہو، ہم چاہتے ہیں کہ اس قانون کے تحت ٹرانزٹ گاڑیوں کو بھی اجازت دی جائیں اور اس مد میں کلیئرنگ ایجنٹ کے ذریعے 10لاکھ کی بجائے 50لاکھ روپے سیکورٹی ڈیپازٹ کی شرط پر 20 گاڑیوں کو اجازت دی جائے . انہوں نے کہاکہ این ایل سی تفتان یارڈ میں کانٹے کی سمت نامناسب ہے اس پر غور کیا جائے اس کے علاوہ ڈیمرجز ریٹس کو بھی تجارتی مفاد کے تحت ختم کیا جائے . انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیکشن 25Aکے تحت افغانستان اور ایران سے لینڈ روٹ کی امپورٹ کے لئے ٹیکس ویلیوایشن کا اختیار کوئٹہ کلکٹریٹ کو دیا گیاہے اس سلسلے میں کمیٹیاں تشکیل دے کر فعال کی جائیں تاکہ ٹیکس ویلیوایشن پر نظرثانی ہو . انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ پالیسی آرڈر 2020کے پیرا 7اور اور سب پیرا 5میں کسٹم اسٹیشن بادینی کو شامل کیا جائے . انہوں نے قمرالدین کاریز انفراسٹریکچر کے سلسلے میں بھی مدد کی فراہمی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایرانی ٹائلز پر ٹیکس ویلیوایشن میں 25 سے 30فیصد تک رعایت دی جائے تاکہ بریکیج سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ ہوسکے . انہوں نے کسٹم پیڈ مال کے گوداموں پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی جارہی ہے جس سے تجارت سے وابستہ افراد مشکلات کے شکار ہیں اس لئے اس کا سلسلہ روکا جائے . انہوں نے کوئٹہ کلکٹریٹ سے ڈیوٹی پیڈ جی ڈیز پر بار کوڈ نصب کرنے کا بھی مطالبہ کیا . اس موقع پر ممبر کسٹم آپریشنز سید محمد طارق ہدیٰ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی کسٹم ڈیوٹی پیڈ مال بردار گاڑیوں کو بلاجواز روکے جانے کا سلسلہ مزید برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایک ہفتے کے دوران اس مسئلے کو مکمل طور پر حل کیا جائے گا تاہم جن گاڑیوں کے متعلق انٹیلی جنس اطلاعات ہوں گی انہیں روک کر چیک کیا جائے گا اس کے علاوہ بلاجواز گاڑیوں کو روک کر تنگ کرنے کا سلسلہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا . انہوں نے کہاکہ اسکریپ کی ٹیکس ویلیوایشن اور قمرالدین کاریز انفراسٹریکچر کے لئے مدد سے متعلق اقدامات اٹھائے جائیں گے دیگر پیش کئے گئے مطالبات کے حل کے لئے احکامات دیئے جارہے ہیں . انہوں نے کہاکہ قانونی تجارت کرنے والوں کے لئے سہولیات پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اس سلسلے میں کوئی لمحہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا . انہوں نے چیمبر آف کامرس کے عہدیداران اور ممبران کو یقین دلایا کہ ان کی تجاویز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا بلکہ انہیں درپیش مشکلات حل کئے جائیں گے . انہوں نے کہاکہ صنعت اور تجارت سے وابستہ افراد کا کسی بھی ملک اور صوبے کی معاشی ترقی میں کردار اہمیت کا حامل ہوتا ہے بلکہ یہ لوگوں کو روزگار کی فراہمی کے بھی اہم ذرائع ہیں . صنعت و تجارت ہو یا دیگر پیداواری شعبہ جات پر کسی کو بھی قدغن لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی . انہوں نے چیمبر آف کامرس کے عہدیداران و ممبران کی مختلف شکایات پر اپنے ساتھ موجود کسٹمز آفیسران و دیگر کو موقع پر احکامات جاری کئے اور کہا کہ صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کو درپیش مشکلات کے حل کے لئے آفیسران اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائے . اجلاس کے اختتام پر چیمبر آف کامرس کی جانب سے ممبر کسٹمز آپریشن سید محمد طارق ہدیٰ کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی . . .

Ad
متعلقہ خبریں