عمران خان حکومت گرانے کیلئے سازشیں شروع ہوچکی ہیں

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) کیا مہنگائی کی آڑ میں کوئی مافیاز ہیں جو عمران خان حکومت کو کام نہیں کرنے دے رہے،اسی متعلق بات کرتے ہوئے ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا تھا کہ اس کی چار پانچ وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے . عمران خان جن چیزوں کی نشاندہی آج کر رہے ہیں میں نے دو سال پہلے کہی تھیں جب آٹے کا بحران شروع ہوا تھا .

میں نے اُس وقت بھی یہی کہا تھا کہ میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ چیزیں خراب کرنے والوں کی نشاندہی کی جائے . میں تب نام تو نہیں لے سکتا تھا کہ لیکن پھر بھی نشاندہی کر دی تھی کہ یہ ایریا ہے جہاں سے چیزیں عمران خان کے خلاف ہوتی ہیں . اور ماضی میں دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ جب بھی کسی حکومت کو گرانا ہو یا کمزور کرنا ہو تو چینی اور آٹے کی قیمتیں بڑھتی ہیں . یہ کام پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے ایک سال بعد ہی شروع ہو گیا تھا . عمران خان کی حکومت کو گرانے کی تمام سازشیں شروع ہو چکی ہیں . عمران خان نے تب میری باتوں پر دھیان نہیں دیا لیکن اب خود کہہ رہے ہیں کہ ان تمام چیزوں کے پیچھے مافیا ہے . . واضح رہے کہ ملک بھر میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا . گذشتہ روز وزیر اعظم کی زیر صدارت پرائسز کنٹرول سے متعلق اجلاس ہوا جس میں انہوں نے چینی مافیا اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ شوگر فیکٹریز کنٹرول ترمیمی ایکٹ 2019 اور قوانین پر ہر صورت عملدر کیا جائے . وزیراعظم کا کہنا تھا کہ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، عوام کو ریلیف دینے کے لیے صوبائی اور ضلعی حکومت فیلڈ میں نظر آئیں . وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی مارکٹ میں اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں . پاکستان درآمدی اشیا پر انحصار کرتا ہے اس لیے مقامی مارکیٹ پر اثر آیا . انہوں نے کہا حکومت غریب طبقے پر بوجھ کم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے . . وزیر اعظم نے کہا کہ احساس راشن، کامیاب پاکستان، کسان کارڈ، صحت کارڈ اور احساس پروگرام کی دیگر اسکیمیں غریب طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے جاری کی گئی ہیں . عمران خان نے کہا کہ عوام کے سامنے حقائق اور اعداد و شمار پیش کیے جائیں . قانون کے مطابق ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کریں . اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چینی کا مکمل سٹاک مارکیٹ میں فروخت کے لئے لایا جائے . . .

Ad
متعلقہ خبریں