پاک بھارت جنگیں بھی سندھ طاس معاہدہ توڑ نہ سکیں، پانی کی تقسیم کے معاہدے کی اصل حقیقت جانتے ہیں؟


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں منگل کے روز ہونے والے دہشت گرد حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا ہے۔
اس رپورٹ میں ہم آپ کو سندھ طاق معاہدے کے بارے میں وضاحت کریں گے۔
تاریخی پس منظر:
سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty) 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی سے طے پایاجسے بین الاقوامی سطح پر ایک ماڈل معاہدہ تصور کیا جاتا ہے۔
اس کے تحت مشرقی دریا راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے کنٹرول میں دیے گئے جبکہ مغربی دریاسندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے حصے میں آئے۔ معاہدہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ تین بڑی جنگوں، کارگل کشیدگی اور سرحدی جھڑپوں کے باوجود قائم رہا۔
بھارتی اقدامات اور معاہدے کی معطلی:
تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ بھارت نے 23 اپریل 2025 کو پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کی مکمل معطلی کا اعلان کیا۔
بھارتی وزیر خارجہ وکرم مسری نے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک پاکستان “دہشت گردوں کی پناہ گاہوں” کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کرتا۔
قبل ازیں 2016 کے اوڑی حملے اور 2019 کے پلوامہ واقعے کے بعد بھی بھارت نے دباؤ ڈالنے کے لیے آبی منصوبے تیز کیے، مگر مکمل معطلی کا اعلان پہلی بار ہوا ہے۔
پاکستان پر ممکنہ اثرات:
پاکستان کی زرعی معیشت کا تقریباً 80 فیصد انحصار دریائے سندھ کے پانی پر ہے۔ معاہدے کی معطلی سے نہ صرف زرعی شعبہ بلکہ پن بجلی کی پیداوار، آبی ذخائر اور پینے کے پانی کی دستیابی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
بالائی سطح پر بھارت اگر پانی روکنے یا اس کا بہاؤ کم کرنے کی کوشش کرے تو سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں قحط جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
قانونی اور سفارتی پہلو:
سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے عالمی بینک نے فریقین کی باہمی رضامندی سے مرتب کیا۔ اس کی یکطرفہ معطلی نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور آبی تنازعات سے متعلق عالمی کنونشنز کی بھی خلاف ورزی سمجھی جا سکتی ہے۔
پاکستان نے بھارتی اعلان کو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ، عالمی بینک اور دوست ممالک سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
نتیجہ و سفارشات:
معاہدے کی معطلی نہ صرف پاکستان کے لیے ماحولیاتی، زرعی و معاشی خطرہ ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو بھی داؤ پر لگا سکتی ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے باہمی مذاکرات اور ثالثی کی راہوں پر واپس آنا ہوگا۔
پاکستان کو اپنی سفارتی مہم مزید متحرک کرتے ہوئے بین الاقوامی فورمز پر واضح ثبوتوں کے ساتھ کیس اٹھانا چاہیے جبکہ بھارت کو چاہیے کہ وہ انسانی و آبی حقوق کو بنیاد بنا کر سنجیدہ مکالمہ بحال کرے۔

WhatsApp
Get Alert