نور مقدم قتل کیس،ملزم کی جج سے راضی نامہ کروانے کی درخواست

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) عدالت نے نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے دوران بولنے پر مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو کمرے سے نکال دیا . تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن عدالت میں نور مقدم قتل کی سماعت ہوئی تو مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت دیگر گرفتار ملزمان عدالت میں پیش ہوئے .

اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عطا ربانی کی عدالت میں ملزم کو پیش کیا گیا . جج نے استفسار کیا کہ مدعی مقدمہ کے وکیل کدھر ہیں؟ جس پر وکیل بابر حیات سمور نے جواب دیا کہ شاہ خاور سپریم کورٹ مصروف ہیں، آپ کارروائی شروع کریں . سماعت کے دوران ملزم ظاہر جعفر نے کہا کہ جناب عطا ربانی کیا میں آپ کے قریب آ سکتا ہوں ، مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا . ملزم کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ مخاطب ہوا اور کہا کہ ’جج عطا ربانی ، میرا راضی نامہ کروا دیں، میں عدالت کے قریب آ کر کچھ بات کرنا چاہتا ہوں . جج عطا ربانی کی جانب سے کوئی ردِعمل نہیں دیا گیا تو ملزم نے ایک بار پھر مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جناب عطا ربانی کیا آپ مجھے سن سکتے ہیں . سماعت کے دوران مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے بولنا شروع کر دیا،فاضل جج نے حکم دیا کہ ملزم کمرہ عدالت سے باہر چلا جائے . عدالتی حکومت پر مرکزی ملزم کو کمرہ عدالت سےباہر بھیج دیا گیا . نیشنل فرانزک کرائم ایجنسی انچارج محمد عمران کے بیان پر جرح کے بعد کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی . اس سے قبل 03 نومبر کو بھی اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہر ذاکر جعفر کی جانب سے مسلسل غلط الفاظ استعمال کرنے پر انہیں کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا تھا . ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی کی عدالت میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت تمام ملزمان پیش ہوئے . دوران سماعت ملزم ظاہر جعفر نے متعدد مرتبہ کچھ کہنے کی کوشش کی . کمرہ عدالت میں ملزم ’حمزہ‘ کا نام پکارتا رہا اور کہا یہ میرا کورٹ ہے، میں نے ایک چیز کہنی ہے . اس دوران پولیس ملزم کو زبردستی کمرہ عدالت سے باہر لے کر جانے لگی تو ظاہر جعفر نے کہا کہ کمرہ عدالت میں رہ کر مجھے جج کو کچھ کہنا ہے . بعدازاں مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے چیخ چیخ کر کہنا شروع کردیا کہ میں اب نہیں بولوں گا اور وہ دروازے کے پیچھے کھڑا ہو گیا . اس دوران نقشہ نویس عامر شہزاد پر ذاکر جعفر کے وکیل کی جرح نہ ہو سکی اور جونیئر وکیل نے کہا کہ ایڈووکیٹ بشارت اللہ جب آئیں گے تو جرح کریں گے جبکہ باقی ملزمان کے وکلا نے نقشہ نویس پر جرح مکمل کر لی . مرکزی ملزم ظاہر جعفر عدالت میں رہ کر مسلسل بولتا رہا کہ کمرہ عدالت میں میرے سمیت فیملی کے افراد انتظار کر رہے ہیں . کمرہ عدالت میں کھڑے ہو کر ملزم ظاہر جعفر نے نازیبا الفاظ کا استعمال کیا کہ پردے کے پیچھے کیا ہے . ظاہر ذاکر جعفر مسلسل کہتا رہا کہ پردے کے پیچھے کیا ہے، میں اور میری فیملی انتظار کر رہے ہیں جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ ملزم ڈرامے کر رہا ہے، اسے کمرہ عدالت سے باہر لے جائیں . . .

Ad
متعلقہ خبریں