بیٹے کی جدائی کا دکھ بیان نہیں ہو سکتا، کوئٹہ کے مقتول پولیس اہلکار کے گھر میں سوگ
بیٹا ہمیشہ کہتا تھا کہ ابا جب موت آنی ہو گی تو وہ کہیں بھی آ جائے گی، فیاض احمد

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)بیٹے کی جدائی ایسا دکھ ہے جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا۔ لگتا ہے جیسے میرا جسم کا حصہ کٹ گیا ہو مگر دل کو صرف اس بات سے کچھ صبر آتا ہے کہ میرے بیٹے نے ملک اور قوم کے لیے جان دی اور شہادت کا رتبہ پایا۔یہ کہنا ہے سب انسپکٹر عبدالولی تنولی کے والد فیاض احمد کا جن کے گھر میں چند ہفتے پہلے شادی کی خوشیاں تھیں اور اب ہر طرف خاموشی اور اداسی چھائی ہوئی ہے۔سب انسپکٹر عبدالولی تنولی اور ان کے ساتھ دو پولیس اہلکاروں مختیار احمد اور عبدالرحمان کو 9اپریل کو کوئٹہ کے علاقے نیو سریاب میں مستونگ روڈ پر نامعلوم عسکریت پسندوں نے اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا جب وہ ڈیوٹی پر تھے۔ تینوں اہلکار شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گئے۔31سالہ عبدالولی تنولی کی صرف ڈیڑھ ماہ قبل شادی ہوئی تھی۔ ان کے والد فیاض احمد بتاتے ہیں کہ ولی کا نکاح اس کی خالہ کی بیٹی سے ہوا تھا ہم نے اس کی بہت جلدی میں شادی کی کیونکہ اس کی خالہ بہت بیمار تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ ولی دوسروں کا خیال رکھنے والا شخص تھا اس لیے شادی کے چند دن بعد ہی وہ اپنی بیوی کو اس کے میکے چھوڑ آیا تاکہ وہ اپنی بیمار ماں کی دیکھ بھال کر سکے۔
فیاض احمد کہتے ہیں کہ دہشتگردوں نے ہماری خوشیاں چھین لی ہیں یہ دن ہمارے لیے بہت کٹھن ہیں خاص کر ولی کی والدہ صدمے میں ہیں۔ وہ دن رات اس کا نام لیتی ہیں۔ ان کی حالت دیکھ کر پورا گھر پریشان ہے۔سوگوار والد نے بتایا کہ ولی میرا سب سے لاڈلا بیٹا تھا، میں نے اس کی ہر خواہش پوری کی، ہر دعا اس کے لیے مانگی مگر یہ لمحہ کبھی نہ سوچا تھا۔ وہ جب کبھی والدہ کی ڈانٹ سنتا تو ہنستے ہوئے کہتا ایک دن آپ شہید کی ماں بنیں گی۔کوئٹہ کے رہائشی عبدالولی نے بیوٹمز یونیورسٹی سے بی بی اے کیا تھا ۔2017میں پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر کے پولیس فورس میں بطور اسسٹنٹ سب انسپکٹر شامل ہو ئے۔ 2024میں ترقی پا کر سب انسپکٹر بنے تھے۔فیاض احمد کا کہنا تھا کہ ترقی کے بعد ولی سریاب جیسے حساس علاقے میں تعینات ہوا تو مجھ سے اجازت لینے آیا۔ وہ کہتا تھا کہ ابا جب موت آنی ہو گی تو وہ کہیں بھی آ جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ ولی رات کو ڈیوٹی پر جاتا تو میں آیت الکرسی اور درود شریف پڑھ کر رخصت کرتا، صبح جب اس کی گاڑی کا ہارن سنائی دیتا تو مجھے سکون آتا تھا۔عبدالولی تنولی کے والد کا مزید کہنا تھا کہ بیٹے کی شہادت نے مجھے ادھورا کر دیا ہے، میرا ایک بازو کٹ گیا ہے۔ مجھے لگتا ہے جیسے میں معذور ہوگیا ہوں۔
بس اس بات پر تسلی ہو جاتی ہے کہ اس نے ایسی موت پائی ہے جس پر پورے خاندان کو فخر ہے۔ اس نے دوسروں کی حفاظت کرتے ہوئے جان دی۔ولی کے چچا زاد بھائی محمد ذیشان کہتے ہیں کہ وہ مجھ سے چھوٹا تھا لیکن میرے بہت قریب تھا۔ تعلیم اور کیریئر کے بارے میں رہنمائی لیتا تھا۔ وہ قابل، محنتی اور خود پر یقین رکھنے والا تھا، پولیس میں آنے کا شوق تھا۔ جب پولیس میں ملازمتوں کا اشتہار آیا تو اس نے کہا کہ میں یہ امتحان پاس کر کے دکھاں گا اور اس نے کر بھی دکھایا۔محمد ذیشان کے مطابق ولی دوسروں سے ہمیشہ عزت سے پیش آتا، سب کا خیال رکھتا۔ اس نے کبھی جان بوجھ کر کسی کی دل آزاری نہیں کی۔ایڈیشنل ایس ایچ او سہیل ندیم جو ولی تنولی کے ساتھی تھے انہیں یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ فرض شناس اور خوش اخلاق افسر تھے۔ کبھی کسی نے ان کے خلاف شکایت نہیں کی۔سہیل ندیم نے بتایا کہ جب فائرنگ کی اطلاع ملی تو میں موقع پر تھا تو سب شدید زخمی تھے۔ ہم انہیں فورا ہسپتال لے گئے لیکن عبدالولی تنولی، سپاہی عبدالرحمان اور سپاہی مختیار بچ نہ سکے۔بلوچستان میں حالیہ دنوں میں پولیس اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مارچ میں نوشکی میں چار پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔اپریل میں مستونگ میں ایک دھماکے میں تین اہلکار جان کی بازی ہار گئے جبکہ 16 زخمی ہوئے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2005سے اب تک بلوچستان میں ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکار اور افسران ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں سمیت دہشتگردی کے واقعات میں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
