بھارتی فوج کی گولہ باری، پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل ظہیر کا 7 سالہ بیٹا بھی شہید


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارتی فوج نے آزاد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں پر بلااشتعال گولہ باری کی جس کے نتیجے میں پاک فوج کے افسر لیفٹیننٹ کرنل ظہیر کے 7 سالہ بیٹے ارتضیٰ عباس شہید ہو گئے۔
اس بزدلانہ حملے کا مقصد نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا تھا جو بھارتی فوج کی جارحیت اور وحشیانہ عزائم کا عکاس ہے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ بھارتی فوج کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ کی وجہ سے پیش آیا۔
اس حملے میں صرف بچوں اور بے گناہ شہریوں کو ہی نشانہ بنایا گیا، جس سے بھارتی فوج کی غیر انسانی سوچ اور بے رحمی ظاہر ہوئی۔
ارتضیٰ عباس کی شہادت نے پورے پاکستان کو سوگوار کر دیا ہے اور عوام کی جانب سے بھارت کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
عوامی ردعمل میں بھارت کی جارحیت کو بدترین قرار دیا گیا ہے اور عالمی سطح پر اس کی مذمت کی جا رہی ہے۔
دوسری طرف افواج پاکستان نے بھارتی فوج کی اس بربریت کا مؤثر اور بھرپور جواب دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی فوج دشمن کی ہر جارحیت کا جواب دے رہی ہے تاکہ بھارت کو یہ سبق سکھایا جا سکے کہ وہ کسی بھی معصوم شہری کو نشانہ بنانے کی جرأت نہ کرے۔
پاکستانی فوج کے افسران نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا معصوم بچوں کو نشانہ بنانا حیوانیت کی بدترین مثال ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
پاک فوج نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ملکی دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر تیار ہے اور دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گی۔
سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی مقامات پر بھارت نے سفید جھنڈا لہرا کر اپنی شکست تسلیم کی ہے۔
یہ حقیقت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بھارت اپنی جارحیت میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے اور اب وہ اپنے اقدامات کا اعتراف کر رہا ہے۔
پاکستانی افواج ہر قدم پر ملکی دفاع کے لیے مستعد ہیں اور دشمن کی ہر حرکت کا بھرپور جواب دے رہی ہیں تاکہ بھارت کی جارحیت کو روکا جا سکے اور آئندہ کسی معصوم جان کو نقصان نہ پہنچایا جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert