شدید گرمی میں بدترین لوڈشیڈنگ ، شہری دہری اذیت میں مبتلا

جماعت اسلامی کا وفاق اور نیپرا سے کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا نوٹس لینے کا مطالبہ


کراچی(قدرت روزنامہ)جماعت اسلامی نے وفاقی حکومت اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا) سے کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔ کراچی میں بڑھتی گرمی کے ساتھ کے الیکٹرک نے شیڈول کے علاوہ غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بھی بڑھا دیا، جس کے باعث مختلف علاقوں میں رات بھر بجلی غائب رہنے سے سخت گرمی میں شہری پریشان ہیں۔شدید گرمی میں بجلی کی طویل اور غیراعلانیہ بندش کے باعث شہری دہرے عذاب میں مبتلا ہیں۔بلدیہ ٹائون کے مختلف علاقوں میں یومیہ 12 سے 15 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے جبکہ اتحاد ٹان، سعیدآباد سیکٹر ایف 9، قائمخانی کالونی اور گلشن غازی میں بھی بجلی بند ہے۔
مکینوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں وقفے وقفے سے ڈیڑھ گھنٹے بجلی آتی اور3 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔لوڈشیڈنگ سے مستثنی علاقوں میں بھی بجلی کی بندش جاری ہے، ناظم آباد،گارڈن ویسٹ،گلستان جوہرسمیت دیگرعلاقوں کو لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ بلوں کی ادائیگی کے باوجود لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ دریںاثنا امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیپرا نے کے-الیکٹرک پر جرمانہ کیا لیکن پھر بھی لوڈشیڈنگ کر رہے ہیں، کے-الیکٹرک کا لائسنس فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔منعم ظفر نے مطالبہ کیا کہ کراچی کو قومی گریڈ سے بجلی فراہم کی جائے، بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کراچی کے لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے، حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں لوگوں کو بجلی دی جائے اور لوڈشیدنگ کا نوٹس لیا جائے۔
پانی کے بحران کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کے فور منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے، شہر کے بڑے علاقوں میں ایک ماہ پانی نہیں آتا ہے، 3 ہزار کا ٹینکر 15 ہزار روپے میں دیا جا رہا ہے۔منعم ظفر نے مزید کہا کہ کراچی میں لوگوں کو پانی، بجلی اور امن کچھ نہیں مل رہا، کراچی کا انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا ہے۔ یادرہے گزشتہ ہفتے مارچ کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران نیپرا نے کراچی میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ پر سی ای او کے-الیکٹرک مونس علوی کا جواب مسترد کر دیا تھا۔

WhatsApp
Get Alert