جب بھارت میں عامر خان بے بس ہیں تو عام مسلمان کا حال کیا ہوگا، اداکار تنقید کی زد میں کیوں؟

ممبئی(قدرت روزنامہ)بالی ووڈ سپر اسٹار عامر خان نے انڈیا میں اپنے خلاف چلنے والی مہم کے بعد وضاحتیں دینے پر مجبور ہو گئے اور ترکیہ کے بائیکاٹ کی بھی حمایت کر دی۔
عامر خان نے حال ہی میں انڈیا ٹی وی کے مشہور شو ’آپ کی عدالت‘ میں رجت شرما کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے انڈین اداکار تھے جن کی فلم میں باقاعدہ ’پاکستان‘ کا نام لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حب الوطنی کی مثال میری فلموں رنگ دے بسنتی، لگان اور سرفروش میں نظر آئے گی اور سرفروش میں ہم نے کھل کر پاکستان اور آئی ایس آئی کا نام لیا۔
عامر خان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے پہلگام حملے کے بعد خاموشی کیوں اختیار کی تو ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے پہلگام حملے کی مذمت کی تھی۔عامر خان نے کہا کہ میں سوشل میڈیا پر نہیں ہوں لیکن پہلگام حملے کے بعد فلم کے ٹریلر کی ریلیز موخر کر دی تھی اور صدمے کی وجہ سے کئی دن گھر سے بھی نہیں نکلا تھا۔
ترکیہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بالی ووڈ اسٹار نے کہا کہ ہمیں بالکل ترکیہ کی حمایت نہیں کرنی چاہیے، جب وہ پاکستان کی مدد کر رہے ہیں، تو ہم کیوں ان کا ساتھ دیں۔ ہم نے ترکیہ میں زلزلہ آنے کے بعد سب سے پہلے ان کی مدد کی اور انہوں نے ہمارے ساتھ یہ کیا؟ یہ سراسر غلط ہے۔
عامر خان سے رجب طیب اردوغان کے ساتھ ان کی ایک تصویر پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تصویر میری اس وقت کی تھی جب سرکار بھی ان کی مدد کر رہی تھی اور اگر کوئی چائے پر بلائے تو میرا ناں کرنا ٹھیک نہیں لگتا۔
عامر خان کے انٹرویو کے کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے تو صارفین کی جانب سے اس پر مختلف تبصرے کیے گئے کئی صارفین نے کہا کہ عامر خان کو خود کو انڈین ثابت کرنے کے لیے ایسے جواب دینے پڑ رہے ہیں۔
محمجد فہیم نے لکھا کہ اتنا بڑا اسٹار ہونے کے بعد بھی اگر عامر خان کو اپنے وفادار ہونے کی صفائیاں دینی پڑرہی ہیں تو اندازہ لگائیں ایک عام مسلمان کو کہاں کہاں کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہوگا۔
ڈاکٹر رومی لکھتے ہیں کہ جناح نے سچ فرمایا تھا کہ ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کو ساری زندگی انڈیا کو اپنی وفاداری ثابت کرنا پڑے گی۔ عامر خان کا اس میں کوئی قصور نہیں۔
فخر درانی نے لکھا کہ بھارتی اداکار عامر خان کوایک بڑا اداکار اور اچھاانسان سمجھتا تھا لیکن ان کے حالیہ انٹرویو کے کچھ کلپس دیکھےوہ ایک اچھے ہندوستانی توہوں گے لیکن ایک اچھے انسان بالکل بھی نہیں۔ پاکستان کے لیے نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ ایک اچھاآرٹسٹ کبھی کسی سے نفرت نہیں کرسکتا۔ یہ اچھے آرٹس بھی نہیں۔
