مستونگ میں 18 اہلکار برطرف، غفلت برتنے والوں کی فورس میں بحالی ممکن نہیں ہوگی، ڈی جی لیویز


مستونگ(قدرت روزنامہ)ڈپٹی کمشنر مستونگ نے 18 لیویز اہلکاروں کو سروس سے برطرف کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ یہ فیصلہ 21 جون 2025 کو تحصیل کردگاپ لیویز اسٹیشن اور نادرا آفس پر مسلح حملے کے دوران اہلکاروں کی جانب سے ڈیوٹی میں غفلت اور نااہلی کی بنیاد پر کیا گیا۔ حملے میں لیویز اسٹیشن اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا، اسلحہ اور مواصلاتی آلات چوری ہوئے۔ اسسٹنٹ کمشنر کردگاپ کی رپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر مستونگ نے بلوچستان لیویز فورس ڈسپلنری رولز 2015 کے تحت 18 اہلکاروں کو فوری طور پر سروس سے فارغ کرنے کا حکم دیا۔ برطرف اہلکاروں میں محمد رحیم (دفعدار)، عبرار حسین (سپاہی)، شاہ فیصل (سپاہی)، محمد اشفاق (سپاہی)، عبد الرسول (سپاہی)، سعد اللہ (سپاہی)، سید رحمت شاہ (سپاہی)، مبشر احمد (سپاہی)، محمد طاہر (سپاہی)، خدا بخش (ڈرائیور)، غلام محمد (سپاہی)، بسم اللہ (سپاہی، اے سی کمپلیکس کردگاپ)، عبد الملک (سپاہی)، محمد اشرف (سپاہی)، محی الدین (سپاہی)، نوید احمد (سپاہی)، محمد زاہد (سپاہی) اور عزیز احمد (سپاہی) شامل ہیں۔ علاوہ ازیں تحصیل دشت میں واقع لیویز تھانے پر حملے کے بعد ڈائریکٹر جنرل بلوچستان لیویز فورس عبدالغفار مگسی نے ہنگامی دورہ کیا، سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور اہم فیصلے صادر کیے۔ ڈی جی لیویز عبدالغفار مگسی نے موقع پر موجود اہلکاروں کو لائن اپ کر کے ان کی حاضری و کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا اور واقعے میں ملوث اہلکاروں کیخلاف فوری ڈسپلنری ایکشن کے احکامات جاری کیے۔ ڈی جی لیویز عبدالغفار مگسی نے کہا کہ ریاستی رٹ پر حملہ ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ ایسے عناصر خواہ وہ اندرونی ہوں یا بیرونی انکے خلاف بلا تفریق محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ جو اہلکار ذمہ داری سے غفلت برتتے ہوئے ایسے واقعات کا سبب بنے، ان کی فورس میں بحالی ممکن نہیں ہوگی۔ ان پر باقاعدہ ڈسپیشل آرڈرز کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

WhatsApp
Get Alert