میٹرک کے سالانہ امتحانات کے نتائج کومسترد کرتے ہیں، آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے میٹرک کے سالانہ امتحانات کے نتائج کو کرپشن۔ بھاری رقم کے عوض خریدی گئی کاغذ کے ٹکڑے کو مسترد کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ بورڈ کے سابقہ تمام ریکارڈ طویل میں لیکر جوڈیشل انکوائری کی جائیں۔نجی تعلیمی اداروں کو بورڈ کے تمام تر معاملات سے دور رکھا جاتاہے ۔صرف نجی سکولز سے بھاری رقم بٹورتے ہیں۔آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن بلوچستان کے صدرنذر بڑیچ ،سینئر نائب صدر حاجی سلیم ناصر، سرپرست اعلی ملک رشید کاکڑ، جنرل سیکرٹری حضرت علی کوثر سرپرست ایگزیکٹو کمیٹی ملک جعفر خان کاکڑ، فنانس سیکرٹری قاری زیب الرحمن، اطلاعات سیکرٹری جیلانی البدری نے کہا کہ بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے سابقہ تمام ریکارڈ کو تھوڑتے ہوئے اپنا اصل چہرہ دیکھا دیا۔ ایف ایس سی اور میٹرک کے امتحانات میں قابلیت وصلاحیت کے بجائے سفارش اور کرپشن کے ذریعے نمبرز بالخصوص پوزیشن دیئے گئے ہیں قابلیت اور محنت کے بجائے پیسوں کی چمک اور دمک کی وجہ سے محنتی طلبا کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے ۔امتحانات میں امتحانی سینٹرز کی بولی لگائی جاتی ہے۔ امتحانی عملہ کو پیسوں کے عوض اور اپنی مرضی کے سینٹرز فروخت کیے گئے ہیں۔ پھر یہ امتحانی عملہ طلبا سے دوران امتحان رشوت لیکر نقل فراہم کرتے ہیں۔بورڈ امتحان کے ایسے گروہ موجود ہیں جو کسی سکولز یا کالج میں کلاسز لینے کے بجائے گذشتہ پندرہ بیس سالوں سے مسلسل امتحانات میں تعینات ہوتے ہیں۔ آج ان کی جائیداد ان کی کرپشن کی آواز اٹھائی ہیں لیکن کسی کو نظر نہیں آتی۔ بورڈ آفس کے کلرک کروڑوں روپے کے جائیداد کے مالک کیسے بنے ۔کلرک بورڈ آفس میں لگژری گاڑی میں آتے جاتے ہیں۔ یہ کرپشن نہیں تو اور کیا ۔پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کس کو معلوم نہیں سابقہ چیرمین بورڈ نے چیرمین کی کرسی کتنے میں خریدی ۔ انھوں نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ بورڈ کے سابقہ تمام امتحانات۔ پیپرز ۔ رزلٹ کی تحقیقات کرکے صوبے کے غریب اور مستحق طلبا کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف فوری نوٹس لیں۔
