فضائی تاریخ کا ناقابل تسخیر کارنامہ؛ پی آئی اے کی تیز ترین پرواز کا ریکارڈ 63 سال بعد بھی برقرار


کراچی (قدرت روزنامہ)پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی تاریخ کئی یادگار ریکارڈز سے بھری پڑی ہے لیکن ان میں سب سے روشن باب 1962 میں لکھا گیا جب قومی ایئرلائن نے دنیا کی تیز ترین کمرشل فلائٹ کا ایسا ریکارڈ قائم کیا جو آج، 63 سال بعد بھی، ناقابلِ تسخیر ہے۔
یہ تاریخی پرواز لندن ہیٹرو سے کراچی تک صرف 6 گھنٹے، 43 منٹ اور 51 سیکنڈ میں مکمل ہوئی۔ اس ناقابلِ یقین سفر کی قیادت کپتان عبداللہ بیگ نے کی، جنہوں نے Boeing 720 طیارے کو 938 کلومیٹر فی گھنٹہ کی اوسط رفتار سے اڑایا، جو آج بھی عالمی ہوا بازی میں ایک منفرد کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ صرف ایک پرواز نہیں تھی بلکہ پاکستان کی ایئرلائن کے عالمی منظرنامے پر اعتماد کے ساتھ قدم رکھنے کی علامت تھی۔ پی آئی اے نے ایشیا کی پہلی ایئرلائن ہونے کا اعزاز حاصل کیا جس نے جیٹ طیارے متعارف کروائے۔
قومی ایئرلائن نے کئی شعبوں میں پہل کی جس میں 1964 میں چین جانے والی پہلی غیر کمیونسٹ ایئرلائن بنی جبکہ 1985 میں امارات ایئرلائن کو تکنیکی معاونت فراہم کی، 2005 میں ہانگ کانگ سے لندن تک سب سے طویل نان اسٹاپ پرواز مکمل کی اور جنوبی ایشیا میں سب سے پہلے ان فلائٹ انٹرٹینمنٹ کا آغاز کیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ پی آئی اے کو کئی اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ 2020 میں پائلٹ لائسنس اسکینڈل اور سیفٹی آڈٹ میں ناکامی کے بعد یورپی یونین، برطانیہ اور امریکہ نے قومی ایئرلائن پر پابندیاں عائد کر دیں۔
فی الوقت قومی ایئر لائن کے بیڑے میں 32 طیارے شامل ہیں جن میں Airbus A320 اور Boeing 777 سرفہرست ہیں۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد اس کے مرکزی آپریشنل مراکز ہیں۔

WhatsApp
Get Alert