صوبے کے ترقیاتی فنڈز کرپشن کی نذر ہوچکے ہیں، خیبرپختونخوا میں سروے کے دوران اکثریت کی رائے


پشاور(قدرت روزنامہ)گیلپ پاکستان کے سروے میں خیبر پختونخوا کے 73 فیصد شہریوں نے کہا ہےکہ صوبے میں سرکاری نوکریاں میرٹ نہیں بلکہ تعلقات پر دی جاتی ہیں، 52 فیصد نے رائے دی کہ ترقیاتی فنڈز کرپشن کی نذر ہوچکے ہیں۔
عوامی آرا جاننے والے ادارے گیلپ پاکستان نے خیبرپختونخوا کے حوالے سے نیا سروے جاری کردیا ہے۔
سروے میں سامنے آیا کہ خیبر پختونخوا میں صرف 63 فیصد افراد کو صحت کی سہولت میسر ہے، 66 فیصد آبادی گیس سے محروم ہے جب کہ 49 فیصد افراد کو بجلی کی قلت یا خراب فراہمی کا سامنا ہے۔
سروے میں سامنے آنے والی رائے کے مطابق صوبے میں 77 فیصد نوجوانوں کو پارکس اور 81 فیصد کو لائبریری کی سہولت میسر نہیں۔
سروے میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کے 13 سال کے دور میں سڑکیں اور ٹرانسپورٹ بہتر ہوئیں، تاہم 2024 کے بعد ترقی کی رفتار سست رہی۔
تحریک انصاف کے اپنے 49 فیصد ووٹرز کے مطابق ان کے علاقوں میں کوئی نمایاں ترقی نہیں ہوئی۔
سروے میں 52 فیصد افراد نے رائے دی کہ ترقیاتی فنڈز کرپشن کی نذر ہوچکے ہیں، 59 فیصد نے بیروزگاری میں اضافے کی نشاندہی کی، 73 فیصد نے الزام لگایا کہ سرکاری نوکریاں میرٹ نہیں بلکہ تعلقات پر دی جاتی ہیں۔

WhatsApp
Get Alert