“وہ گالیاں نہیں، چیخیں،اچھا ہوتا اس کا حال پوچھا ہوتا،تجزیہ نگار انیق ناجی نے “وائرل چاچا” کی ویڈیو کےبعد صورتحال کا نقشہ کھینچ دیا


لاہور(قدرت روزنامہ)بارش کے پانی میں پریشانی سے دوچار ایک ادھیڑ عمر شخص نے ریاستی ذمہ داران کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے جس پر اسے گرفتار کرلیاگیا اور معافی منگوائی گئی جس کی ویڈیو سامنے آنےکے بعدتجزیہ نگار انیق ناجی نےبھی اپنا موقف پیش کردیا۔
سوشل میڈیا پر انیق ناجی کاکہناتھاکہ”ایک مجبور دکھی آدمی جو بارش میں کھڑے گندے پانی سے اپنی موٹر سائیکل پر گزر رہا ہے، جلا ہوا مزاج لئے وہ دو گالیاں نکال دیتا ہے۔وہ گالیاں نہیں تھیں اس کا سسکنا تھا، اس کی چیخیں تھیں۔ وہ سینہ پھاڑ کر اپنا حال بتا رہا تھا۔ رو نہیں سکتا تھا، بھیک نہیں مانگ رہا تھا۔ اچھا ہوتا اس کا حال پوچھا ہوتا، اس کے آنسو پونچھے ہوتے۔ اس سے معافی مانگی جاتی کہ سختی سے تم اور لاکھوں اور بھی، دیوانے ہو چکے ہیں اور دیوانوں کی گالی ، جرم نہیں ہے۔ کم سے کم یہ کہ نظر انداز کر دیا ہوتا۔
مگر نہیں، اسے اٹھانا بھی تھا، پولیس کے پہرے میں معافی بھی منگوانی تھی کیونکہ رعب رکھنا تھا۔تنیجہ یہ ملا کہ چار چاچے اور کھڑے ہو گئے اور اب ٹک ٹاک پر ان کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں۔خدا ایسے رعب سے بچائے جو صرف ڈنڈے پر قائم ہو ، اگر دلوں میں احترام نہیں تو کچھ نہیں۔
ن لیگ کے چند ناموں کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ ان سے مشورہ نہیں کیا گیا ورنہ وہ ایسا کبھی نہ ہونے دیتے( اور اب صدمے میں بھی ہوں گے )، وہ درگزر کی بات کرتے، وہ کہتے کہ پریشان حال کی ذہنی حالت نارمل نہیں ہوتی اس لیے اسے معافی دی جاتی ہے، مگر نہیں۔
اس ویڈیو میں اس آدمی کی جگہ اسی طرح خود کو رکھ کر دیکھیں، دل پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائیں کہ اس حالت میں آپ کبھی حکومت کو دعا دیتے ؟ حکومت کی توہین کا معاملہ ، کسی مذہب یا عقیدے کی توہین جیسا نہیں جسے برداشت نہ کیا جائے۔ کیا برطانیہ میں لوگ حکومت کو گالیاں نہیں نکالتے ؟ فساد کی دعوت ایک قطعی مختلف معاملہ ہے۔
ایمان کی طاقت، سزا پر اختیار ہوتے ہوئے بھی کسی غریب پریشان حال، دیوانگی کے شکار کمزور کو جو غصے میں ہوش و حواس کھو بیٹھا، ذاتی توہین پر معاف کر دینے میں چھپی ہوتی ہے ۔معافی کا اعلان کیا ہوتا یا نظر انداز تو یہ لائق شان تھا نہ کہ وہ جو ہوا ، وہ جو ایک اے ایس آئی بھی کرتا، کوئی ٹریفک کانسٹیبل۔
یاد رہے یہ دن گزر جائیں گے، ایک دن پولیس کا پہرہ ہٹ جائے گا۔ وہ دن ، دس سال کے بعد آئے یا دس مہینے بعد ، کوئی نہیں جانتا۔ پھر غصے میں بپھرے انہیں لوگوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں، تمام عمر”۔

WhatsApp
Get Alert