شہبازشریف چینی ایکسپورٹ نہیں کرنا چاہتےتھے لیکن ان پر خاندان کی طرف سے دباؤ آیا: محمد مالک


لاہور(قدرت روزنامہ)سینئر صحافی محمد مالک نے انکشاف کیاہے کہ شہبازشریف چینی ایکسپورٹ نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن ان پر خاندانی دباو آیااور اس پریشر میں آ کر یہ فیصلے ہوئے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محمد مالک نے کہا کہ یہ لابی اتنی مضبوط ہے کہ مجھے 200 فیصد پکی اطلاع ہے کہ وزیراعظم چینی ایکسپورٹ نہیں کرنا چاہتے تھے ، ان پر بہت پریشر تھا ، پھر وزیراعظم کو لاہور بلایا گیا، خاندانی میٹنگ ہوئی، وہاں اس قسم تک کی باتیں ہوئیں کہ اگر اتنا کام نہیں کر سکتے تو وزارت عظمیٰ چھوڑ دواور پھر چینی پر وزارت عظمیٰ تو کوئی نہیں چھوڑتا ، پھر اس پریشر میں آ کر یہ فیصلے ہوئے ہیں ۔

دوسری جانب نجی ٹی وی ڈان نیوز نے دعویٰ کیاہے کہ چینی کی ریٹیل قیمت کے تعین پر حکومت اور پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جب کہ مارکیٹ میں قیمتیں بدستور بلند سطح پر برقرار ہیں۔
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن اور وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کے درمیان چینی کی ریٹیل قیمت پر منگل کے روز ہونے والے مذاکرات کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے، جب کہ مارکیٹ میں قیمتیں بدستور بلند سطح پر برقرار ہیں۔ذرائع کے مطابق حتمی فیصلہ آئندہ چند روز میں متوقع ہے، تاہم ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ چینی کی قیمت 170 روپے فی کلو کے قریب رکھی جائے۔
حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ایس ایم اے نے ایکس مل قیمت 165 روپے فی کلو پر چینی فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے لیکن عام صارفین کے لیے ریٹیل قیمت تاحال واضح نہیں کی گئی۔
یاد رہے کہ 24-2023 کرشنگ سیزن کے دوران حکومت اور شوگر انڈسٹری کے درمیان معاہدے کے تحت ایکس مل قیمت 140 روپے فی کلو مقرر کی گئی تھی۔تاہم، اب ملک بھر میں ریٹیل قیمت 180 سے 200 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے، جب کہ تھوک نرخ 159 روپے کے آس پاس ہیں۔
وزارت قومی غذائی تحفظ کے جاری کردہ بیان کے مطابق اجلاس میں حکومت کی مقرر کردہ ایکس مل قیمت کے اطلاق اور مارکیٹ میں چینی کی بلاتعطل دستیابی پر گفتگو ہوئی۔بیان میں کہا گیا کہ نئی ایکس مل قیمت کا اثر دو سے تین روز میں ریٹیل مارکیٹ میں نظر آنا شروع ہو جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert