سی پیک اور ریکوڈک میں بلوچستان کو نظرانداز کیاگیا ہے،ہدایت الرحمن بلوچ


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولاناہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ کوئٹہ سے25جولائی کو لانگ مارچ کے قافلے کیساتھ بلوچستان کا مقدمہ لیکر اسلام آباد جائیں گے ،بلوچستان میں کس کی کیا حیثیت سب کو معلوم ہییہاں کے دعویدار بے بس ہیں سی پیک اور ریکوڈک میں بلوچستان کو نظرانداز کیاگیا ہیاسلام آباد سے بلوچستان کو ریموٹ کنٹرل کے ذریعے چلایا جارہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سریاب بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے لانگ مارچ آگہی کیمپ میں ذمہ داران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیااس موقع پرنائب امراء زاہداختربلوچ بشیراحمدماندائی امیرضلع کوئٹہ عبدالنعیم رندعبدالولی خان شاکرودیگرصوبائی وضلعی ذمہ داران بھی موجودتھےمولاناہدایت الرحمان بلوچ کہاکہ غربت بے روزگاری کے خاتمے کیلئے بلوچستان کے ایران افغانستان کیساتھ بندکیے گیے تمام بارڈرزکھول دیے جائے لاپتہ افرادکوبازیاب مسخ شدہ لاشیں پھینکنابندکیاجائے سی پیک کے ثمرات اہل بلوچستان کودیے جائے۔بلوچستان میں عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والوں کوخدمت کاموقع دیاجائے ڈمی نااہل ریموٹ سے کنٹرول ہونے والی حکومت وممبران عوام کے مسائل حل نہیں کرسکتے۔25 جولائی لانگ مارچ انہی مسائل کے حل کیلئے ہے بلوچستان میں بدامنی عروج پر ہیعوام کو تحفظ دینے کی بجائے سرکار اعلامیہ جاری کردیتی شام میں سفر نہ کریں20 گھنٹے بلوچستان بند ہونے کے بعد بھی کہا جاتادہشتگردوں کو کیفرکردار پہنچائیں گیحکومت کا کام اعلامیہ جاری کرنا نہیں ہے،بارڈر بندش کے باعث بے روزگاری بڑھ چکی ہیعوام اس وقت ذہنی اذیت کا شکار ہیں اسلام آباد میں بلوچستان دشمن حکومت ہیگورنربلوچستان کے پاس فاتحہ خوانی کے علاوہ کوئی اختیار نہیں۔لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کیا جائیسیاسی انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں بلوچستان جیل نہیں ہیبلوچستان میں پرامن سیاسی جدوجہد کی اجازت دی جائے۔

WhatsApp
Get Alert