پی ٹی آئی کے 5 اگست احتجاج سے قبل لاہور میں کریک ڈاؤن، 200 سے زائد کارکن گرفتار
گرفتار افراد میں سے کچھ کو شورٹی بانڈز (ضمانتی مچلکوں) پر چھوڑ دیا گیا

لاہور (قدرت روزنامہ)لاہور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 5 اگست کے مجوزہ احتجاج سے قبل پولیس نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے 200 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق مذکورہ افراد کو شہر کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا، جن میں سے کچھ کو شورٹی بانڈز (ضمانتی مچلکوں) پر چھوڑ دیا گیا ہے، تاہم پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور پولیس کی جانب سے ”ڈور ناکنگ“ کی کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔
پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے 5 اگست کے احتجاج کے پیش نظر گرفتاری کے خدشے کے باعث پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔
سلمان اکرم راجہ نے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہمی کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کردی۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پولیس اور ایف آئی اے میں درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
درخواست میں سیکرٹری داخلہ، پولیس، ایف آئی اے اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے جبکہ درخواست دائر کرنے سے قبل سلمان اکرم راجہ نے بائیو میٹرک تصدیق بھی کروائی۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں ہونے والا مرکزی احتجاجی جلسہ منسوخ کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا نے 5 اگست کو عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ”یوم سیاہ“ منانے کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
صوبائی وزیر برائے ہائیر ایجوکیشن مینا خان کے مطابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور پشاور میں مرکزی ریلی کی قیادت کریں گے، جبکہ صوبے کے تمام اضلاع میں علیحدہ علیحدہ احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔ مرادن، صوابی اور نوشہرہ سے آنے والے قافلے صوابی انٹرچینج پر جمع ہوں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے دعویٰ کیا ہے کہ 5 اگست کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ریلی نکالی جائے گی، جو پشاور رنگ روڈ سے ہوتے ہوئے قلعہ بالا حصار پر اختتام پذیر ہوگی۔
تحریک انصاف نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے اب قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کی بنیاد پر اضلاع اور قصبوں میں احتجاج کی منصوبہ بندی کی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اگر 5 اگست کا احتجاج غیر مؤثر رہا تو اس تحریک کو 14 اگست تک توسیع دینے پر غور ہو رہا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین، پارلیمانی پارٹی کی سربراہ اور متعدد سرکردہ ارکان کو پولیس تلاش کر رہی ہے۔
