قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کا دھواں دار خطاب، سرکاری نشریات بند
اسپیکر کی موجودگی میں قومی اسمبلی کے ارکان کو گھسیٹا گیا اور اب تک کسی نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک پُرجوش اور تنقیدی خطاب کیا جس کے دوران سرکاری ٹی وی اور پارلیمنٹ میڈیا کی نشریات بند کر دی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ اسپیکر کی موجودگی میں قومی اسمبلی کے ارکان کو گھسیٹا گیا اور اب تک کسی نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ “آئین کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے، اور پاکستان کسی کی جاگیر نہیں۔”
انہوں نے جیل حکام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک کرنل یا سپرنٹنڈنٹ جیل ارکانِ پارلیمنٹ کو قیدیوں سے ملنے کی اجازت نہیں دیتا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ “آئین پاکستان کے پرخچے اڑا دیے گئے ہیں اور دکھ ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی اس حکومت کا ساتھ دے رہی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ “عمران خان اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا لیڈر ہے،” اور یہ ایوان کروڑوں پاکستانیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ “آئین کے تحفظ کے لیے ہمیں ایک نئی سیاست کا آغاز کرنا ہوگا جس میں فیصلے یہ ایوان کرے۔”
محمود اچکزئی نے کہا کہ ہماری فوج، شہباز اور نواز شریف سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں، لیکن حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ ارکان کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر موقف اختیار کرتی۔
انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم کے خلاف بھی قرارداد پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ “یہاں نیتن یاہو کے خلاف قرارداد پاس ہونی چاہیے اور اسے عالمی عدالت انصاف میں لے جانا چاہیے۔”
انہوں نے باجوڑ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “جس طریقے سے آپ باجوڑ پر چڑھ دوڑے ہیں، اس سے خانہ جنگی ہوگی اور اس کی ذمہ داری شہباز شریف حکومت پر ہوگی۔”
انہوں نے آخر میں کہا: “آئیں ہم سب توبہ کریں، ایک دوسرے کو معاف کریں اور سب صوبوں کو ان کے وسائل کا حق دیں۔”
