کیا خواجہ آصف نے استعفیٰ دیا اور ان کے دوست اے ڈی سی آر کو کیوں اٹھوایا گیا؟ نجم سیٹھی کے بڑے انکشافات


لاہور(قدرت روزنامہ)سینئر صحافی نجم سیٹھی نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کی بیوروکریسی سے متعلق ٹویٹس اور پھر استعفیٰ کی خبروں کی حقیقت بیان کر تے ہوئے بڑے انکشافات کر دیئے ہیں ۔
تفصیلات کےمطابق نجم سیٹھی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف کے ایک دوست ہیں، وہ ایک زمانے میں ریٹرننگ افسر تھے ، خواجہ صاحب پر ان کا قرض ہے ، اٹھانا ہے ، وہ اے ڈی سی آر ہیں ، سیالکوٹ میں ایک پراپرٹی پر ایک تنازع چل رہاہے ، جس میں ایک کمپنی ہے ، کچھ بھائی ہیں وہ کاروبار بھی کرتے ہیں ، وہ زمین ان کی ہے، خواجہ صاحب چاہتے تھے کہ وہ زمین ان کو دیدی جائے، مسئلہ بنا ہوا تھا، اے ڈی سی آر نے جا کر ان پر ٹھاپ لگا دی کہ آپ کریں، وہ کیسز بنا کر اے ڈی سی آر کو پکڑ کر لے گئے ، خواجہ صاحب نے کہا یہ کیا ہوگیا، پھر خواجہ صاحب نے دھمکیاں دینی شروع کر دیں ، کہ اسے ریلیز کریں، لوگوں کے اپنے بھی تعلقات ہوتے ہیں، اس کمپنی کے بھی بیوروکریٹس کے ساتھ تعلقات تھے ، انہوں نے ہاتھ پیر مارے اور بندے کو اٹھوا لیا ، کیس ان کا مضبوط ہے ۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ میر ا خیال ہے کہ خواجہ آصف ناراض ہو گئے ہیں ظاہر ہے انہوں نے اپنے دوست کو بچانا تھا تو انہوں نے شور ڈال دیا، وہ یہی تھا کہ یہ کون ہوتے ہیں اٹھانے والے یہ تو سارے ملے جلے ہیں، انہوں نے کسی کو یہ کہہ دیا کہ یار تو چلا دے کہ میں عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں ، خود تو نہیں کہہ سکتے تھے ، جب یہ ہوا تو خواجہ آصف کا مقصد پورا ہو گیا، ان کو بلا کر رضا مند کیا گیا کہ خواجہ صاحب چھوڑ بھی دیں، آپ کا بندہ باہر آجاتاہے ، اتنا غصہ کیوں کرتے ہیں، وہ پھر کس نے کیا ہے تو آپ یہ خود ہی سمجھ جائیں کہ وہ کہاں گئے اور کہاں سمجھایا گیا ، جیسے ہی یہ ہوا تو خواجہ آصف نے انکار کر دیا کہ میں نے تو استعفیٰ دیا ہی نہیں ،تو اس طریقے سے یہ گیمز چلتی ہیں، خواجہ آصف نے بیوروکریسی پر جو الزام لگا دیاہے ، وہ غصے میں ایسی باتیں کر جاتے ہیں بعد میں پچھتاتے ہیں، آج کل تو ان کی گود میں ہیں، خواجہ آصف غصے میں بڑی باتیں کر جاتے ہیں اور بعد میں کہتے ہیں کہ میرا تو یہ مقصد ہی نہیں تھا۔

WhatsApp
Get Alert